بین الاقوامی: مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی صلاحیتوں نے جہاں ٹیکنالوجی کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں، وہیں ماہرین کی جانب سے اس کے ممکنہ خطرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر مستقبل میں انتہائی طاقتور یا ’’سپر انٹیلیجنٹ‘‘ اے آئی انسانی نگرانی سے باہر ہوگئی تو کیا یہ انسانیت کے لیے وجودی خطرہ بن سکتی ہے؟
ماہرین کی سخت وارننگز
اے آئی کے ممکنہ خطرات پر بحث نئی نہیں۔ 2023 میں سینکڑوں سائنس دانوں اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ رہنماؤں نے ایک بیان پر دستخط کیے تھے، جس میں اے آئی کے ذریعے انسانیت کے خاتمے کے ممکنہ خطرے کو وباؤں اور ایٹمی جنگ جیسے عالمی خطرات کے برابر سنجیدہ قرار دینے پر زور دیا گیا تھا۔
کیلیفورنیا یونیورسٹی برکلے کے کمپیوٹر سائنس کے پروفیسر اسٹورٹ رسل کے مطابق اگر مستقبل میں کوئی بے قابو اے آئی یہ نتیجہ اخذ کرے کہ انسان اس کے مقاصد کی راہ میں رکاوٹ ہیں تو وہ انتہائی خطرناک اقدامات کرسکتی ہے۔
ان کے مطابق ممکنہ خطرات میں خطرناک حیاتیاتی عوامل کی تیاری و پھیلاؤ، لوگوں کو ایٹمی جنگ کی طرف دھکیلنا یا اہم دفاعی نظاموں میں مداخلت جیسے اقدامات شامل ہوسکتے ہیں۔
تاہم اسٹورٹ رسل نے واضح کیا کہ موجودہ اے آئی نظام اس نوعیت کے وجودی خطرات پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق اصل تشویش مستقبل میں اس وقت پیدا ہوسکتی ہے جب اے آئی انسانی ذہانت سے کہیں آگے نکل جائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ قلیل مدت میں سب سے بڑا خطرہ اے آئی کا خودمختار ہوکر انسانیت کے خلاف ہوجانا نہیں بلکہ انسانوں کی جانب سے اے آئی کا غلط استعمال ہے، جس میں دہشت گردی یا دیگر خطرناک سرگرمیاں شامل ہوسکتی ہیں۔
اے آئی کمپنیاں ترقی کیوں نہیں روک رہیں؟
اے آئی کی دوڑ میں شامل کمپنیوں کے اندر بھی اس ٹیکنالوجی کے خطرات پر اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔
اے آئی محقق جیکب کاکسن نے امریکی کمپنی انتھروپک سے استعفیٰ دینے کے بعد سوشل میڈیا پر مؤقف اختیار کیا کہ ٹیکنالوجی کی دوڑ میں شامل کمپنیوں کو خطرات کا علم ہے، لیکن وہ اس مقابلے میں آگے نکلنے کے لیے تیزی سے ترقی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ان کے مطابق اے آئی تیار کرنے والی بعض کمپنیوں کے اندر یہ خدشہ موجود ہے کہ موجودہ دہائی کے اختتام تک انتہائی طاقتور اے آئی انسانوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔
دوسری جانب اے آئی کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ اگر کوئی کمپنی یکطرفہ طور پر اپنی تحقیق روک دیتی ہے تو ممکن ہے کہ کم محتاط حریف آگے نکل جائیں، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر دنیا زیادہ غیر محفوظ ہوسکتی ہے۔
کیا خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے؟
ہر ماہر اے آئی کے مستقبل کو انسانیت کے خاتمے سے نہیں جوڑتا۔ یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کینبرا کے کمپیوٹنگ پروفیسر حسین عباس نے ایسی انتہائی خطرناک پیش گوئیوں کو غیر سائنسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صورتحال اب بھی قابو میں ہے اور اسے مناسب اقدامات کے ذریعے سنبھالا جاسکتا ہے۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ حکومتوں کو بے فکری سے کام نہیں لینا چاہیے بلکہ اے آئی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ ساتھ مؤثر ضابطہ کاری کا نظام بھی تشکیل دینا ہوگا۔
ماہرین کے ایک گروہ کا یہ بھی مؤقف ہے کہ انسانیت کے خاتمے جیسے انتہائی خطرات پر ضرورت سے زیادہ توجہ دینے سے موجودہ مسائل نظر انداز ہوسکتے ہیں، جن میں ملازمتوں پر اے آئی کے اثرات، غلط معلومات، امتیازی الگورتھمز اور انسانی نگرانی کے مسائل شامل ہیں۔
حکومتوں کے لیے بڑا چیلنج
اے آئی کی نگرانی اور ضابطہ کاری اب عالمی سطح پر ایک اہم پالیسی مسئلہ بن چکی ہے۔ خصوصاً جدید اے آئی ماڈلز کی بڑھتی ہوئی سائبر اور ہیکنگ صلاحیتوں نے قومی سلامتی کے حوالے سے بھی خدشات پیدا کیے ہیں۔
امریکا میں بھی اس معاملے پر یہ بحث جاری ہے کہ سخت قوانین ٹیکنالوجی میں جدت کو سست کریں گے یا پھر غیر ذمہ دارانہ ترقی کو روکنے کے لیے یہ قوانین ضروری ہیں۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اے آئی کے حوالے سے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ ایسی پابندیاں نہیں لگنی چاہئیں جن سے امریکا چین سے پیچھے رہ جائے۔
اے آئی کی لائسنسنگ کا مطالبہ
پروفیسر اسٹورٹ رسل کا کہنا ہے کہ انتہائی طاقتور اے آئی نظاموں کے لیے لائسنسنگ کا نظام متعارف کرانے پر غور کیا جانا چاہیے، جس طرح ہوا بازی، طب اور دیگر حساس شعبوں میں حفاظتی اصول اور نگرانی موجود ہے۔
ان کے مطابق حکومتوں کو اے آئی کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے کسی بڑے حادثے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔
ماہرین کے درمیان اختلاف اپنی جگہ، لیکن ایک بات پر اتفاق بڑھ رہا ہے کہ اے آئی کی ترقی جتنی تیز ہوگی، اس کی نگرانی، حفاظتی اصول اور ذمہ دارانہ استعمال کے لیے عالمی سطح پر ضابطہ کاری کی ضرورت بھی اتنی ہی بڑھتی جائے گی۔