مشرقِ وسطیٰ کی شطرنج پر مہروں کی چالیں تیزی سے چل رہی ہیں۔ ایک طرف واشنگٹن ہے جو تہران پر دباؤ بڑھانے کے لیے دنیا بھر کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تو دوسری طرف بیجنگ ہے جس نے خاموشی سے ایک ایسی دیوار کھڑی کر دی ہے جسے گرانا ٹرمپ انتظامیہ کے لیے آسان نہیں ہوگا۔
دوحہ انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر محمد المصری کا کہنا ہے کہ امریکہ کو چین سے کسی بڑے معجزے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ تاہم دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ تازہ بیان بھی سامنے آیا ہے کہ انہیں خطے میں جنگیں ختم کرنے کے لیے چین کی کسی بھی مدد کی ضرورت نہیں۔ یہ بیان امریکی خارجہ پالیسی میں ایک نئی خوداعتمادی یا شاید چین کو نظرانداز کرنے کی حکمتِ عملی کو ظاہر کرتا ہے۔
چین اور ایران اگرچہ روایتی معنوں میں “اتحادی” نہیں ہیں، لیکن ان کے درمیان ایک اسٹریٹجک شراکت داری موجود ہے جو صرف تجارت تک محدود نہیں۔ پروفیسر المصری کے مطابق بیجنگ ایران کو ایک ایسے اہم کارڈ کے طور پر دیکھتا ہے جو امریکی بالادستی کو چیلنج کر سکتا ہے۔
جہاں بیجنگ مشرقِ وسطیٰ کو امریکہ اور اسرائیل کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے لیے تیار نہیں، وہیں ٹرمپ کا یہ کہنا کہ وہ “چین کے بغیر بھی جنگیں ختم کر سکتے ہیں” اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ واشنگٹن اب بیجنگ کو اس معاملے میں شریک فریق تسلیم کرنے کے بجائے اپنے ہی فیصلے مسلط کرنا چاہتا ہے۔ عالمی معیشتیں آبنائے ہرمز میں کشیدگی سے خوفزدہ ہیں، جبکہ چین پہلے ہی متبادل راستے تلاش کر چکا ہے۔
چین اپنے طویل المدتی مفادات کو کسی وقتی امریکی دباؤ کے تابع نہیں کرے گا۔ تاہم ٹرمپ کی نئی حکمت عملی یہ ہے کہ چین کو اس کھیل سے باہر رکھ کر براہِ راست نتائج حاصل کیے جائیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا چین اپنی “خاموش دیوار” کو برقرار رکھے گا یا ٹرمپ کا یکطرفہ اقدام بیجنگ کے اثر و رسوخ کو کم کر دے گا؟
پروفیسر المصری کے مطابق چین اس خطے کو امریکہ کے حوالے کرنے کے لیے تیار نہیں۔ لیکن ٹرمپ کا حالیہ دعویٰ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے: “ہمیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں، ہم خود جنگ ختم کر سکتے ہیں۔”
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا امریکہ واقعی چین کی مداخلت کے بغیر اس معاشی اور سفارتی محاذ پر کوئی بڑا شگاف ڈال سکے گا؟