گلگت بلتستان کا الگ نظام کیوں ہے اور انتخابات الگ کیوں ہوتے ہیں؟

فہرستِ مضامین

گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کےلیے پولنگ کا عمل جاری ہے، پولنگ بغیر کسی وقفےکے شام 5 بجے تک جاری رہے گی، الیکشن کے موقع پر لوگوں میں جوش و خروش دیکھا جارہا ہے جو وقت شروع ہونے سے پہلے ہی پولنگ اسٹیشن پہنچ گئے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں 1391 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، 349 پولنگ اسٹیشن حساس اور 551 انتہائی حساس قرار دیے گئے ہیں۔

گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں کیلئے مجموعی طور پر 400 سے زائد امیدوار میدان میں ہیں،  مجموعی طور پر 9 لاکھ 58 ہزار 480 ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں انتخابا باقی ملک کے ساتھ کیوں نہیں ہوتے ؟

 گلگت بلتستان میں انتخابات اور انتظامی نظام باقی پاکستان سے مختلف ہے کیونکہ اس علاقے کی آئینی حیثیت پاکستان کے چار صوبوں جیسی نہیں ہے۔ اس کی موجودہ ساخت تاریخی، قانونی اور سیاسی وجوہات کا نتیجہ ہے۔

گلگت بلتستان کا الگ نظام کیوں ہے؟

گلگت بلتستان کی صورتحال یہ ہے کہ یہ پاکستان کا حصہ ہے لیکن آئینِ پاکستان (Constitution of Pakistan) میں اسے بطور صوبہ شامل نہیں کیا گیا۔ اسے مکمل صوبائی درجہ (province status) حاصل نہیں ہے۔ اس لیے یہاں کا نظام **special administrative arrangement** کے تحت چلتا ہے۔

تاریخی پس منظر

1947 میں جب برصغیر تقسیم ہوا تو گلگت بلتستان پہلے ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تھا۔ مقامی لوگوں اور گلگت اسکاؤٹس نے ڈوگرا حکومت کے خلاف بغاوت کر کے اس علاقے کو آزاد کیا۔ بعد میں یہ پاکستان کے انتظام میں آ گیا، مگر اسے مکمل آئینی صوبہ نہیں بنایا گیا کیونکہ کشمیر تنازع (Kashmir dispute) بین الاقوامی سطح پر متنازع رہا اور پاکستان نے اسے آئینی طور پر “temporary administrative region” کے طور پر رکھا۔

انتخابات الگ کیوں ہوتے ہیں؟

گلگت بلتستان میں انتخابات اس لیے الگ ہوتے ہیں کیونکہ یہاں کی اپنی اسمبلی ہے جسے Gilgit-Baltistan Legislative Assembly کہتے ہیں۔ یہ اسمبلی محدود اختیارات رکھتی ہے۔ انتخابات الیکشن کمیشن آف گلگت بلتستان یا وفاقی انتظامی ڈھانچے کے تحت ہوتے ہیں اور یہ پاکستان کے قومی اسمبلی یا چار صوبائی اسمبلیوں سے الگ ہوتے ہیں۔

یعنی یہاں سے منتخب لوگ وزیراعلیٰ (Chief Minister) منتخب کرتے ہیں اور مقامی قوانین بناتے ہیں، لیکن دفاع، خارجہ امور، کرنسی وغیرہ وفاق پاکستان کے پاس ہوتے ہیں۔

انتظامی نظام کیسے مختلف ہے؟

گلگت بلتستان کا نظام ایک **hybrid system** ہے۔ وفاقی حکومت کا کردار یہ ہے کہ گورنر وفاق مقرر کرتا ہے اور اہم پالیسی فیصلوں میں وفاق کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔ مقامی حکومت کے تحت منتخب اسمبلی اور وزیراعلیٰ موجود ہیں، جبکہ تعلیم، صحت، ٹورازم وغیرہ میں محدود خودمختاری ہوتی ہے۔ سپریم ادارے کے حوالے سے یہاں پاکستان کی سپریم کورٹ کا دائرہ مکمل طور پر لاگو نہیں ہوتا اور ایک مختلف عدالتی ڈھانچہ موجود ہے۔

یہ نظام “الگ” کیوں رکھا گیا؟

اس کی بنیادی وجوہات کشمیر تنازع کی وجہ سے مکمل آئینی انضمام سے گریز، جغرافیائی اور اسٹریٹجک حساسیت، تاریخی طور پر عبوری (temporary) انتظامی حل، اور مقامی شناخت و مطالبات کو جزوی طور پر ایڈریس کرنا ہیں۔

گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ ہے مگر آئینی طور پر صوبہ نہیں۔ اسی لیے یہاں الگ اسمبلی ہے، الگ انتخابات ہوتے ہیں، اور انتظامی نظام وفاق کے زیر اثر ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں