ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اگرچہ اس کی فوجی تیاری مکمل ہے، تاہم تہران کی اصل ترجیح خطے میں مستقل امن اور سفارتی حل ہے۔
ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ ایران اب بھی “ہاتھ ٹریگر پر رکھے ہوئے ہے”، لیکن اس کے باوجود ملک مذاکرات اور دیرپا امن کے راستے کو ترجیح دے رہا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے ISNA کے مطابق انہوں نے کہا کہ ایران نے 40 روز تک دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کا سامنا کیا، مگر اس کے باوجود تہران اب بھی مذاکراتی حل کا منتظر ہے۔
فاطمہ مہاجرانی کا کہنا تھا کہ ایران کی پالیسی صرف جنگی ردعمل تک محدود نہیں بلکہ قومی مفادات کے تحفظ اور خطے میں پائیدار استحکام کے قیام پر مرکوز ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران سفارتی معاملات میں انہی اصولوں پر عمل پیرا ہے جن پر سابق ایرانی قیادت زور دیتی رہی ہے، یعنی “عزت، حکمت اور مصلحت”۔ تہران کا مؤقف ہے کہ طاقت کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سفارتی راستے بھی کھلے رکھنا ضروری ہیں تاکہ کشیدگی کو بڑے تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جاسکے۔