تل ابیب: اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے ایک اہم بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو اسرائیلی کارروائی میں ہلاک کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی اسرائیل کی قومی سلامتی کے تحفظ اور مستقبل کے خطرات کو روکنے کے لیے کی گئی۔
یسرائیل کاٹز نے کہا کہ علی خامنہ ای اسرائیل کے خلاف مبینہ طور پر ایک بڑے منصوبے کی قیادت کر رہے تھے، جس کا مقصد اسرائیل کو نقصان پہنچانا تھا۔ ان کے بقول اسی بنیاد پر اسرائیل نے انہیں نشانہ بنایا۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے مزید خبردار کیا کہ اگر مستقبل میں کوئی بھی ایرانی عسکری یا سکیورٹی کمانڈر اسرائیل کے خلاف اسی نوعیت کی منصوبہ بندی میں ملوث پایا گیا تو اسرائیل اسے بھی نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج ہر ممکن خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور ضرورت پڑنے پر کسی بھی وقت کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یسرائیل کاٹز نے ایران پر حالیہ وسیع اسرائیلی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں کی جانے والی کارروائیوں نے اسرائیل کو درپیش وجودی خطرات کو بڑی حد تک ختم کر دیا ہے۔ ان کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں ایران کی عسکری صلاحیتوں اور دفاعی ڈھانچے کو نمایاں نقصان پہنچا۔
دوسری جانب ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا سلسلہ مسلسل چوتھے روز بھی جاری ہے۔ ملک بھر سے ہزاروں افراد مختلف شہروں میں ہونے والی تقریبات میں شرکت کر رہے ہیں جبکہ سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق ابتدائی مرحلے میں جمعہ کا دن غیر ملکی اور سرکاری وفود کی شرکت کے لیے مخصوص رکھا گیا تھا، جبکہ ہفتے سے عوام کے لیے رسومات میں شرکت کا سلسلہ شروع ہوا، جو اب بھی جاری ہے۔ ایران کے مختلف علاقوں سے آنے والے شہری اپنے رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں اور سوگ کی فضا برقرار ہے۔