ہرمز تنازع اور عالمی سفارت کاری: بیجنگ میں ایران-چین رابطے، واشنگٹن بھی متحرک

فہرستِ مضامین

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں بدھ کے روز اس وقت اہم سفارتی سرگرمی دیکھنے میں آئی جب چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقات کا آغاز کیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ ایک روزہ دورہ ایسے حساس وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر رہی ہے اور عالمی طاقتیں اس بحران کو پھیلنے سے روکنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

یہ ملاقات اس پس منظر میں بھی اہم ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 14 اور 15 مئی کو چین کا دورہ کرنے والے ہیں، جہاں وہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ سربراہی مذاکرات کریں گے۔ ماہرین کے مطابق بیجنگ میں ہونے والی یہ سفارتی سرگرمیاں آئندہ عالمی مذاکراتی سمت پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

ادھر حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان خلیج میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا، جب دونوں فریق آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت اور کنٹرول کے معاملے پر آمنے سامنے آ گئے۔ اس صورتحال نے پہلے سے کمزور جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا۔

ابتدائی طور پر امریکی بحریہ نے تجارتی جہازوں کو آبنائے سے گزارنے کے لیے حفاظتی کارروائی شروع کی تھی، تاہم بعد میں صدر ٹرمپ نے اسے عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق ایران کے ساتھ ایک جامع معاہدے کی سمت “اہم پیش رفت” ہو رہی ہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر کیا گیا، اور اس کا مقصد ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے مزید وقت حاصل کرنا ہے۔ تاہم امریکی حکام نے واضح کیا کہ بعض سمندری اقدامات بدستور برقرار رہیں گے۔

منگل کی شب سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ ایک حتمی معاہدے کی جانب نمایاں پیش رفت ہو رہی ہے، اگرچہ تہران کی جانب سے اس پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے مؤقف اختیار کیا کہ حالیہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب ایران امریکا کی مذاکراتی پیش رفت پر غور کر رہا تھا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بحران کا کوئی فوجی حل موجود نہیں۔

چین نے اس تنازع پر بظاہر غیر جانبدارانہ پوزیشن برقرار رکھی ہے، تاہم اس نے ایران کی خودمختاری پر حملوں کی مخالفت کی ہے اور خطے میں ثالثی کی کوششوں کی حمایت جاری رکھی ہے۔

سفارتی ماہرین کے مطابق بیجنگ میں ہونے والی یہ ملاقاتیں اور واشنگٹن کی بدلتی حکمت عملی اس بات کی علامت ہیں کہ ہرمز بحران اب صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی سفارت کاری کا مرکزی محور بنتا جا رہا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں