اسلام آباد: آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے دوران اچانک سفارتی اور عسکری صورتحال نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں امریکی بحریہ نے تجارتی جہازوں کو گزرگاہ سے گزارنے کے لیے شروع کی گئی حفاظتی کارروائی محض ایک روز بعد ہی عارضی طور پر روک دی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ایران کے ساتھ “جامع اور حتمی معاہدے” کی سمت نمایاں پیش رفت ہو رہی ہے۔
اسی روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اعلان کیا کہ 28 فروری سے جاری فوجی و فضائی کارروائی “آپریشن ایپک فیوری” باضابطہ طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ ان کے مطابق اب واشنگٹن کی توجہ ایک ایسے “میمورنڈم آف انڈر اسٹینڈنگ” پر ہے جو مستقبل کی مذاکراتی سمت طے کرے گا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ یہی مطالبہ گزشتہ کئی ہفتوں سے ایران بھی پاکستان کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچا رہا تھا، جس میں جنگ بندی کو فوری ترجیح دینے اور جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے میں لے جانے کی تجویز شامل تھی۔
ابتدا میں امریکا اس مؤقف کے خلاف تھا اور صدر ٹرمپ واضح طور پر ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے کو کسی بھی معاہدے کی بنیادی شرط قرار دیتے رہے۔ تاہم حالیہ پیش رفت میں امریکی مؤقف میں لچک کے آثار نمایاں ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق اب واشنگٹن اور تہران ایک ایک صفحے پر مشتمل ابتدائی معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں، جس میں تفصیلی جوہری مذاکرات بعد کے مرحلے پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔
ایرانی تجزیہ کار سید مجتبیٰ جلال زادہ کے مطابق یہ تبدیلی اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے زیادہ حقیقت پسندانہ راستہ اپنا رہا ہے۔
پاکستان اس پورے عمل میں ثالثی کردار ادا کر رہا ہے، اور اسلام آباد میں اعلیٰ حکام دونوں فریقین سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن کی موجودہ رفتار ایک دیرپا معاہدے کی طرف لے جا سکتی ہے۔
تاہم صورتحال مکمل طور پر مستحکم نہیں ہوئی۔ حالیہ دنوں میں جنگ بندی کی کمزور بنیادیں دوبارہ ہلتی دکھائی دیں جب خطے میں مختلف حملوں اور جوابی الزامات کا سلسلہ شروع ہوا، جس کے باوجود امریکہ نے براہ راست کشیدگی بڑھانے سے گریز کیا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ واقعات “بڑے فوجی تصادم کی حد سے نیچے” ہیں اور جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ آیا واشنگٹن نے بالواسطہ طور پر ایران کا بنیادی مطالبہ تسلیم کر لیا ہے یعنی پہلے جنگ بندی اور آبنائے ہرمز پر معاہدہ، جبکہ جوہری مسئلہ بعد میں حل کیا جائے۔
روبیو کے حالیہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکی حکمت عملی پہلے کے سخت مؤقف سے واضح طور پر ہٹ چکی ہے۔
دوسری جانب ایران نے اپنے مؤقف میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی اور اب بھی اسی ترتیب پر زور دے رہا ہے کہ پہلے تنازع ختم ہو، پھر جوہری معاملے پر بات ہو۔
ادھر چین، سعودی عرب اور پاکستان سمیت کئی علاقائی طاقتیں بھی سفارتی سرگرمیوں میں تیزی لا رہی ہیں، جبکہ آنے والے دنوں میں اعلیٰ سطحی عالمی ملاقاتیں اس عمل پر مزید اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ ایک مکمل جامع معاہدہ ابھی دور ہے، تاہم موجودہ پیش رفت ایک محدود مگر اہم سفارتی بریک تھرو ضرور قرار دی جا سکتی ہے جو خطے کو بڑے تصادم سے وقتی طور پر دور لے گئی ہے۔