بحرِ اوقیانوس میں سفر کرنے والے ڈچ پرچم بردار کروز جہاز MV Hondius پر ہنٹا وائرس کے مشتبہ پھیلاؤ نے ایک سنگین صورتحال پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک تین مسافروں کی ہلاکت جبکہ متعدد افراد کے بیمار ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
یہ جہاز اس وقت مغربی افریقہ کے جزیرہ نما ملک Cape Verde کے قریب سمندر میں لنگر انداز ہے، جہاں صحت اور حفاظتی اقدامات کے باعث اسے بندرگاہ پر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔
مسافروں اور عملے کی تفصیل
عالمی ادارۂ صحت World Health Organization کے مطابق جہاز پر مجموعی طور پر 147 افراد سوار ہیں جو 23 مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔
ڈچ کمپنی Oceanwide Expeditions کے زیرِ انتظام اس جہاز میں 88 مسافر اور 61 عملے کے افراد شامل ہیں۔ مسافروں میں برطانیہ، امریکہ، اسپین اور نیدرلینڈز سمیت متعدد ممالک کے شہری موجود ہیں، جبکہ عملے میں زیادہ تر افراد فلپائن، یوکرین، نیدرلینڈز اور برطانیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
ہلاکتوں کی تفصیل
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دو ڈچ مسافر (میاں بیوی) جنوبی امریکہ کے سفر کے بعد ارجنٹینا کے شہر Ushuaia سے 1 اپریل کو جہاز میں سوار ہوئے تھے۔
* شوہر 6 اپریل کو بیمار ہوا اور 11 اپریل کو انتقال کر گیا، بعد ازاں اس کی لاش برطانوی جزیرے Saint Helena پر اتاری گئی۔
* اہلیہ کی حالت بھی بگڑ گئی اور وہ بعد ازاں جوہانسبرگ منتقل ہوتے ہوئے 26 اپریل کو ہسپتال میں دم توڑ گئی۔
* تیسری ہلاکت ایک جرمن خاتون مسافر کی ہوئی جو بخار اور نمونیا کے بعد 2 مئی کو جہاز پر ہی وفات پا گئی، اور ان کی لاش تاحال جہاز پر موجود ہے۔
مزید چار افراد میں بیماری کی علامات سامنے آئی ہیں:
ایک برطانوی مسافر کو شدید بخار اور نمونیا کے بعد انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔
عملے کے دو افراد (ایک برطانوی اور ایک ڈچ) میں سانس کی شدید علامات پائی گئی ہیں۔
ایک اور شخص میں معمولی بخار تھا جو اب صحتیاب ہو چکا ہے۔
وائرس کے بارے میں خدشات
ماہرین کے مطابق یہ کیس ممکنہ طور پر ہنٹا وائرس سے منسلک ہو سکتا ہے، جس کی ابتدائی علامات ایک سے چھ ہفتے تک ظاہر ہو سکتی ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق متاثرہ ڈچ جوڑا غالباً جہاز پر سوار ہونے سے پہلے ہی وائرس کا شکار ہو چکا تھا۔
ہنٹا وائرس ایک خطرناک مرض ہے جو عام طور پر چوہوں کے ذریعے پھیلتا ہے اور انسانوں میں شدید سانس کی بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کی انسان سے انسان میں منتقلی بہت کم دیکھی گئی ہے، اور اس کا کوئی مخصوص علاج یا ویکسین موجود نہیں۔
جہاز کا سفر اور موجودہ صورتحال
MV Hondius ایک پولر ایکسپیڈیشن جہاز ہے جو 2019 میں تیار کیا گیا تھا اور 170 مسافروں کی گنجائش رکھتا ہے۔
یہ جہاز انٹارکٹیکا کے سفر کے بعد جنوبی بحرِ اوقیانوس کے مختلف مقامات جیسے South Georgia، Tristan da Cunha اور Saint Helena سے گزرتا ہوا اب کیپ وردے کے قریب پہنچا ہے۔
آئندہ ممکنہ اقدامات
حکام کے مطابق مسافروں کو ان کے کیبنز میں الگ تھلگ رکھا گیا ہے اور جہاز پر مکمل صفائی اور جراثیم کشی جاری ہے۔
ابتدائی منصوبہ یہ ہے کہ جہاز کو اسپین کے جزائر Canary Islands منتقل کیا جائے، جہاں مزید طبی جانچ، جراثیم کشی اور تفصیلی تحقیقات کی جائیں گی۔ تاہم حتمی فیصلہ طبی ڈیٹا اور بین الاقوامی حکام کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔