اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ یورپ موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کی زد میں ہے، جہاں گرمی کی لہریں، جنگلاتی آگ اور برفانی علاقوں میں تیزی سے کمی جیسے خطرناک رجحانات دیکھے جا رہے ہیں۔
ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (WMO) کے مطابق سال 2025 میں یورپ کے تقریباً تمام علاقوں میں اوسط سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔ اسی سال سمندری درجہ حرارت بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جبکہ آرکٹک سے لے کر بحیرہ روم تک وسیع پیمانے پر جنگلاتی آگ نے تباہی مچائی۔
ہ رپورٹ بدھ کے روز WMO نے یورپی سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فورکاسٹس (ECMWF) کے ساتھ مشترکہ طور پر جاری کی، جس میں یورپ کو موسمیاتی بحران کا سب سے زیادہ متاثرہ خطہ قرار دیا گیا ہے۔
بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور تباہ کن اثرات
ECMWF کے ڈائریکٹر جنرل فلورین پاپنبرگر کے مطابق یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم ہے، جہاں تقریباً پورے خطے میں غیر معمولی حد تک درجہ حرارت ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مئی 2025 میں شدید خشک سالی نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا۔
گرم اور خشک موسم نے گزشتہ سال جنگلاتی آگ کو ہوا دی، جس کے نتیجے میں 10 لاکھ ہیکٹر (تقریباً 25 لاکھ ایکڑ) رقبہ جل گیا، جو کہ تقریباً قبرص کے برابر ہے۔ اسی دوران یورپ کے 70 فیصد دریا معمول سے کم پانی کے بہاؤ کا شکار رہے۔
سمندری اور برفانی تبدیلیاں
رپورٹ کے مطابق یورپ کے کئی سمندری علاقوں میں شدید ہیٹ ویوز دیکھنے میں آئیں، خصوصاً برطانیہ، آئرلینڈ اور آئس لینڈ کے قریب بحر اوقیانوس اور بحیرہ روم کے مختلف حصوں میں درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ گیا۔
اس کے علاوہ شمالی یورپ کے سرد ترین علاقوں—ناروے، سویڈن اور فن لینڈ—میں جولائی 2025 کے دوران 21 دن تک جاری رہنے والی غیر معمولی گرمی ریکارڈ کی گئی، جس میں درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ رہا۔
برف اور گلیشیئرز میں کمی
مارچ 2025 میں یورپ میں برف کی تہہ تقریباً 30 فیصد کم ہو کر 1.32 ملین مربع کلومیٹر رہ گئی، جو فرانس، اٹلی، جرمنی، سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا کے مجموعی رقبے کے برابر نقصان ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ یورپ بھر میں گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، اور آئس لینڈ میں تاریخ کی دوسری سب سے بڑی برفانی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ماہرین کی وارننگ
ECMWF کی اسٹریٹجک کلائمیٹ لیڈ سمانتھا برجیس نے کہا ہے کہ 2025 کی رپورٹ واضح طور پر بتاتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی رفتار خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
ان کے مطابق بڑھتا ہوا درجہ حرارت، جنگلاتی آگ اور خشک سالی اس بات کا ثبوت ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی اب کوئی مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ ایک موجودہ حقیقت ہے جس کا سامنا پوری دنیا کو کرنا پڑ رہا ہے۔