100 روزہ جنگ نے خطے میں طاقت کا توازن کیسے بدل دیا؟

فہرستِ مضامین

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے 100 دن مکمل ہو گئے ہیں، اور اس عرصے میں نہ صرف ایران کے جوہری پروگرام اور فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا بلکہ ایرانی حکومت کی مجموعی طاقت بھی کمزور ہوئی ہے۔

مضمون کے مطابق 28 فروری کو امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی کا آغاز کیا، جس کا مقصد ایران کی عسکری طاقت کو توڑنا اور اس کے جوہری عزائم کا خاتمہ کرنا تھا۔ 100 دن بعد مصنف کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی اپنے کئی اہم اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

تحریر میں کہا گیا ہے کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام، جسے اس کی دفاعی حکمتِ عملی کا اہم ستون سمجھا جاتا تھا، بڑی حد تک تباہ ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کی بحری قوت کو بھی شدید نقصان پہنچا جبکہ فردو، نطنز اور اصفہان جیسے اہم جوہری مراکز، جہاں برسوں سے جوہری سرگرمیاں جاری تھیں، تباہ ہو چکے ہیں۔

مضمون کے مطابق بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) نے بھی ان تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کو انتہائی بڑا قرار دیا ہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ ایران نے کئی دہائیوں میں جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے لیے جو منصوبہ تیار کیا تھا، وہ اب عملی طور پر ختم ہو چکا ہے اور فوجی طاقت کی بحالی میں بھی برسوں لگ سکتے ہیں۔

تحریر میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کو بھی ایک اہم موڑ قرار دیا گیا ہے۔ مصنف کے مطابق خامنہ ای تقریباً چار دہائیوں تک ایرانی نظام کا مرکزی ستون رہے، جنہوں نے خطے میں مختلف اتحادی گروہوں اور تنظیموں کی حمایت کی اور ایران کی علاقائی پالیسیوں کی قیادت کی۔

اگرچہ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایران میں ابھی تک حکومتی تبدیلی رونما نہیں ہوئی، لیکن مضمون میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایسے نظام فوری طور پر ختم نہیں ہوتے بلکہ ان کے زوال کا عمل وقت لیتا ہے۔ مصنف کے مطابق آج کا ایران 27 فروری والے ایران سے بالکل مختلف ہے، کیونکہ اس کی اعلیٰ قیادت کو نقصان پہنچا، فوجی ڈھانچہ متاثر ہوا اور معیشت مزید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔

تحریر میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنگ کے باعث ایران کو تقریباً 270 ارب ڈالر کا معاشی نقصان پہنچا ہے جبکہ ملکی کرنسی شدید دباؤ میں ہے۔ مصنف کے مطابق تہران میں بعض شہریوں کی جانب سے خامنہ ای کی موت پر خوشی کا اظہار اس بات کی علامت ہے کہ ملک کے اندر تبدیلی کی خواہش موجود ہے۔

مضمون میں جنگ کے مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کے پاس ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی پالیسیوں کا کوئی مؤثر متبادل حل موجود نہیں تھا۔ مصنف کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں کی سفارتی کوششیں، پابندیاں اور مذاکرات ایران کو اپنی پالیسیوں سے باز نہ رکھ سکے۔

تحریر میں اسلام آباد میں ہونے والی جنگ بندی کو بھی ایران کی کمزوری کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ ایران جنگ بندی اس لیے قبول کرنے پر آمادہ ہوا کیونکہ اسے اپنی فوجی اور معاشی مشکلات کا سامنا تھا۔

مزید کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اگرچہ عالمی تجارت کے لیے مسئلہ بنی ہوئی ہے، تاہم مصنف کے مطابق اس سے ایران کو روزانہ کروڑوں ڈالر کا معاشی نقصان ہو رہا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ اس پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

مضمون کے اختتام پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ 100 دن پہلے ایران مشرقِ وسطیٰ میں ایک طاقتور علاقائی قوت سمجھا جاتا تھا، لیکن آج اس کی قیادت، عسکری صلاحیت اور جوہری پروگرام شدید متاثر ہو چکے ہیں۔ مصنف کے مطابق یہ امریکی طاقت کے استعمال کی ایک بڑی مثال ہے، تاہم اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اصل اور مشکل مرحلہ ابھی باقی ہے اور خطے میں پائیدار استحکام کے لیے مزید اقدامات درکار ہوں گے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں