راولپنڈی: تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر راولپنڈی پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کر لیے ہیں۔ شہر کو ایک بار پھر “کنٹینر سٹی” میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جبکہ اہم شاہراہوں اور داخلی و خارجی راستوں پر درجنوں مقامات کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے راولپنڈی کے 37 مقامات کو بلاکنگ پوائنٹس قرار دیا گیا ہے جہاں کنٹینرز، ٹرالرز اور دیگر رکاوٹیں لگا کر سڑکوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔ مری روڈ سمیت شہر کی مرکزی شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی مکمل طور پر معطل ہے، جبکہ راولپنڈی کو اسلام آباد سے ملانے والے تمام اہم داخلی راستے بھی بند کر دیے گئے ہیں۔
متاثرہ مقامات میں صدر میٹرو اسٹیشن، مریڑھ چوک، موتی محل چوک، فیض آباد جنکشن، شمس آباد، ڈھوک کالا خان، آئی جے پی روڈ ٹرن، کٹاریاں پل، پنڈورہ چونگی، کھنہ پل، سی ڈی اے چوک اور چک مدد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تاج کمپنی چوک، اقبال روڈ، لیاقت روڈ، قاسم مارکیٹ، اور جی ٹی روڈ پر باہتر موڑ، براہمہ انٹرچینج، ٹیکسلا چوک، فتح جنگ ٹول پلازہ، اور موٹر وے لنک روڈ (اولڈ ٹول پلازہ) بھی کنٹینرز سے بند کر دیے گئے ہیں۔
مزید مقامات جیسے مہرآباد، جابہ پلی، چیرنگ کراس، کچا اسٹاپ، کلمہ چوک، اڈیالہ روڈ، سواں پل، گلزار قائد اور رحیم آباد بھی بند ہیں، جبکہ موٹر وے انٹرچینجز جیسے ٹھلیاں اور چکری کو بھی سیل کر دیا گیا ہے۔ چک بیلی، گوجر خان، مندرہ، چکوال موڑ، دولتالہ موڑ اور کلر سیداں بائی پاس سمیت متعدد علاقے بند کیے جا چکے ہیں۔
پولیس کی بھاری نفری تعینات،آتشیں اسلحہ ساتھ رکھنے پر پابندی
شہر بھر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے 6 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ ہر تھانے اور سرکل کی حدود میں مجموعی طور پر 37 سیکیورٹی پکٹس قائم کی گئی ہیں، جہاں پولیس اہلکار فسادات سے نمٹنے والے آلات سے لیس ہیں۔ پولیس اہلکاروں کے پاس صرف آنسو گیس گنز، ربڑ بلٹس اور 12 بور گنز ہیں، جبکہ آتشیں اسلحہ صرف ایس پی اور اس سے اعلیٰ افسران کے ساتھ موجود ہوگا۔
سیکیورٹی انتظامات کی کمانڈ خود سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی کر رہے ہیں۔
میٹرو بس سروس مکمل معطل، دفعہ 144 نافذ
راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس سروس بھی مکمل طور پر معطل کر دی گئی ہے۔ صدر سے فیض آباد آئی جے پی اسٹیشن تک تمام میٹرو اسٹیشنز پر پولیس اور اسپیشل رائٹ ٹیمیں تعینات ہیں، جو آنسو گیس شیلنگ کی مہارت رکھتی ہیں۔ مری روڈ پر شالیمار چوک سے فیض آباد تک 13 خصوصی پولیس ٹیمیں بھی تعینات کی گئی ہیں، جبکہ روف ٹاپ ڈیوٹی بھی لگائی گئی ہے۔
شہر میں جلسے، جلوس اور اجتماعات پر دفعہ 144 کے تحت 4 روز کے لیے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی نافذ ہے۔
عوام کو شدید مشکلات، انٹرنیٹ سروس بھی معطل
سڑکوں کی بندش کے باعث راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہریوں، خصوصاً دفاتر اور تعلیمی اداروں کا رخ کرنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ جڑواں شہروں میں تھری جی اور فور جی سیلولر انٹرنیٹ سروسز بھی بند کر دی گئی ہیں۔
تاہم، کینٹ ایریاز میں ٹریفک معمول کے مطابق چل رہی ہے