شکیل سومرو
کامریڈ روچی رام کی اہلیہ لکشمی بائی کا کل انتقال ہوگیا، جو ایک نہایت افسوسناک واقعہ ہے۔ ان کی سادگی، وفاداری اور محبت بھری باتیں آج بھی ذہن میں تازہ تصویر کی طرح زندہ ہیں۔ کامریڈ روچی رام اور سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت پیش کی جاتی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ لکشمی بائی کی روح کو سکون عطا فرمائے۔ میں نے کامریڈ روچی رام اور ان کی مرحومہ اہلیہ لکشمی بائی کا یہ انٹرویو تقریباً دس سال قبل کیا تھا۔ ان کی یاد کو زندہ رکھنے کے لیے یہ انٹرویو پیش کیا جا رہا ہے، جو ان کی شخصیت اور زندگی کی سچائیوں کا عکس ہے۔
سندھ کی سماجی اور سیاسی تاریخ میں کامریڈ روچی رام جیسی شخصیات صرف سیاسی جدوجہد تک محدود نہیں رہیں، بلکہ ان کی ذاتی زندگی کے صفحات بھی انسانی جذبات، قربانیوں اور وقت کے بے رحم بہاؤ کی عکاسی کرتے ہیں۔ عشق، جدائی اور شادی—یہ تینوں مرحلے ان کی زندگی میں اس شدت سے آئے کہ ایک مکمل انسانی کہانی کی صورت اختیار کر گئے۔
کامریڈ روچی رام کی اہلیہ لکشمی بائی سادہ انداز میں بتاتی ہیں کہ انہیں “کامریڈ” لفظ کا مطلب بھی شادی کے بعد معلوم ہوا۔ ان کے مطابق شادی سے پہلے نہ انہوں نے اپنے شوہر کو دیکھا تھا، نہ اس زمانے میں ایسا کوئی رواج تھا۔
شادی کی کہانی: لکشمی بائی کے ساتھ ایک اتفاقی رشتہ
وہ بتاتی ہیں کہ ان کی منگنی پہلے کہیں اور ہوچکی تھی، لیکن برصغیر کی تقسیم کے بعد لڑکے والے ہندوستان منتقل ہوگئے اور پیغام بھیجا کہ اب اپنی بیٹی کی شادی کہیں اور کردیں۔ اس نازک وقت میں ان کے چچا نے آگے بڑھ کر ان کی منگنی روچی رام سے کرا دی۔
اس فیصلے پر ان کے والد سخت ناراض ہوئے اور زندگی بھر اس بات کا دکھ رکھتے رہے کہ انہیں اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔ مگر وقت کے ساتھ یہ رشتہ مضبوط ہوتا گیا اور قائم رہا۔
لکشمی بائی کے مطابق روچی رام کی توجہ گھر سے زیادہ دوستوں، کتابوں اور سیاسی سرگرمیوں پر رہتی تھی۔ جلسے، جلوس، مطالعہ اور سفر—یہ سب ان کی زندگی کا حصہ تھے۔ ایک بیوی کے طور پر انہیں کبھی کبھار شکایت ضرور ہوتی تھی، مگر وہ کم ہی ظاہر کرتی تھیں۔ ان کے ذہن میں یہی بات غالب رہتی تھی کہ “کامریڈ لوگوں کے اپنے اصول ہوتے ہیں۔”
وہ کہتی ہیں کہ وہ خود کبھی کامریڈ نہیں بنیں، بلکہ ایک گھریلو عورت کے طور پر اپنی زندگی کو قبول کرتے ہوئے اس رشتے کو نبھاتی رہیں۔ بمبئی کے ایک دورے کے دوران جب معروف ادیبہ سندری اتم چندانی نے ان سے پوچھا کہ “آپ نے ان کے ساتھ کیسے نبھایا؟” تو انہوں نے جواب دیا:
“بہن، شادی ہوئی ہے تو نبھانی تو پڑے گی نا!”
یہ جملہ گویا لکشمی بائی کی پوری زندگی کا خلاصہ بن گیا۔
وہ مزید بتاتی ہیں کہ شادی کے بعد روچی رام کی حوصلہ افزائی سے انہوں نے تھوڑا بہت پڑھنا سیکھا، کیونکہ اس زمانے میں لڑکیوں کی تعلیم کو اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔ آج بھی وہ کتاب پڑھ سکتی ہیں، اگرچہ لکھنے میں مشکل محسوس کرتی ہیں۔
زندگی کے آخری دور میں وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہتی ہیں کہ اب روچی رام زیادہ تر گھر میں رہتے ہیں، مگر ان کی توجہ اب بھی زیادہ تر دوستوں اور کامریڈز کی طرف ہوتی ہے۔ عمر کے اثر سے بھولنے کی عادت بھی بڑھ گئی ہے، مگر دوستوں کی باتیں انہیں اب بھی یاد رہتی ہیں۔
پہلا عشق: شانتی کرپالانی
روچی رام کی زندگی کا ایک اہم باب ان کا پہلا عشق ہے۔ کالج کے دنوں میں پیدا ہونے والی یہ محبت تقسیم کے طوفان میں بکھر گئی، مگر دل کے کسی کونے میں ہمیشہ زندہ رہی۔
وہ بتاتے ہیں کہ شانتی فزکس کی طالبہ تھی، جس کا حسن اور وقار بے مثال تھا۔ جب وہ لیبارٹری کی سیڑھیوں سے اترتی تو یوں لگتا جیسے پوری کائنات اس میں سمٹ آئی ہو۔ اس کی شخصیت میں ایک جادو سا تھا۔
روچی رام اور ان کے تین ساتھی کالج کے ذہین ترین طلبہ میں شمار ہوتے تھے، اور شانتی بھی ان میں شامل تھی۔ آہستہ آہستہ نظریں ملیں، مسکراہٹیں بڑھیں، اور چھوٹے چھوٹے واقعات محبت میں بدل گئے۔
ایک بار زولوجی لیبارٹری میں مینڈک کاٹتے ہوئے اچانک اس کی حرکت سے روچی رام گھبرا گئے، جس پر شانتی ہنس پڑی۔ یہ لمحہ ان کی قربت کا ایک خوبصورت آغاز بن گیا۔
تقسیم: محبت کی جدائی

جب ان کی محبت عروج پر تھی، تب 1947 کی تقسیم ہوگئی۔ شانتی کا خاندان ہندوستان چلا گیا، اور یہ لمحہ روچی رام کے لیے زندگی کا سب سے بڑا صدمہ ثابت ہوا۔
وہ شانتی کی تلاش میں کراچی بندرگاہ سے لے کر کھوکھراپار، جے پور، اجمیر، بمبئی، احمد آباد اور پونا تک گئے—جہاں جہاں پناہ گزین کیمپ تھے، انہوں نے اسے تلاش کیا۔ مگر قسمت نے ساتھ نہ دیا اور وہ مایوس ہوکر واپس آگئے۔
32 سال بعد ملاقات
وقت گزرتا رہا، مگر یادیں باقی رہیں۔ تقریباً 32 سال بعد، جب روچی رام پچاس سال کے ہو چکے تھے، پانڈیچیری میں ایک اتفاقی ملاقات کے دوران انہیں شانتی کے ماموں ملے۔
انہوں نے بتایا کہ شانتی زندہ ہے اور کلکتہ میں رہتی ہے۔ پھر روچی رام کلکتہ گئے، جہاں طویل جدائی کے بعد دونوں کی ملاقات ہوئی۔ یہ لمحہ جذبات، یادوں اور خاموش درد سے بھرا ہوا تھا۔
شانتی اس وقت کینسر میں مبتلا تھی۔ جب اسے شادی کا مشورہ دیا گیا تو اس نے جواب دیا:
“میں آج مروں یا کل، شادی نہیں کروں گی۔”
چند دن ساتھ گزارنے کے بعد قسمت نے انہیں پھر جدا کر دیا۔ کچھ سال بعد شانتی اس دنیا سے رخصت ہوگئی۔
قسمت کا فیصلہ: لکشمی سے شادی
روچی رام کہتے ہیں کہ لکشمی دراصل کسی اور کی منگیتر تھی، مگر تقسیم نے اس کی تقدیر بدل دی۔ ان کے مطابق شاید قسمت نے پہلے ہی یہ فیصلہ کر رکھا تھا۔
رشتہ پکا کرنے کے لیے مارواڑ کے بھگت سنتوک ناتھ اور مٹھی کے مکھّی لکھمی چند رسم کے طور پر دودھ لے کر آئے، اور اس طرح یہ شادی انجام پائی۔
وہ کہتے ہیں:
“لکشمی میری قسمت میں لکھی ہوئی تھی۔ شاید اسی تقدیر کو پورا کرنے کے لیے تقسیم ہوئی۔ اگر تقسیم نہ ہوتی تو شاید وہ کسی اور کی ہو جاتی۔”
عشق، جدائی اور وفاداری
کامریڈ روچی رام کی زندگی کی یہ داستان صرف ایک شخص کی کہانی نہیں، بلکہ اس دور کے سماجی، سیاسی اور انسانی حالات کی عکاسی بھی ہے۔ ایک طرف ادھورا عشق—شانتی، اور دوسری طرف نبھایا گیا رشتہ—لکشمی۔
یہ کہانی بتاتی ہے کہ محبت ہمیشہ حاصل کرنے کا نام نہیں ہوتی، کبھی یہ صرف ایک یاد بن کر دل میں رہ جاتی ہے۔ جبکہ شادی، وفاداری اور ساتھ وقت کے ساتھ نئی معنویت اختیار کر لیتے ہیں۔
روچی رام کی زندگی عشق کی شدت، جدائی کے درد اور اتفاقی رشتے کی خاموش عظمت کی ایک زندہ مثال ہے۔