اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان چلنے والے مذاکرات کوئی حتمی نتیجہ لیے بغیر اختتام کو پہنچ گئے ہیں۔ امریکی وفد بھی واپسی کے لیے روانہ ہو چکا ہے۔ اس سے کچھ اہم امور تو سامنے آ گئے ہیں، مگر متعدد نکات اب بھی مبہم ہیں۔
واپسی سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پریس بریفنگ کرتے ہوئے بتایا کہ بات چیت کل 21 گھنٹے تک جاری رہی۔ اس دوران کئی مراحل اور دور ہوئے جن میں کچھ نئے اہم نکات بھی شامل کیے گئے۔
جنگ بندی کا کیا بنے گا؟
پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کو شروع سے ہی ’نازک‘ قرار دیا جا رہا تھا۔ نائب صدر کی بریفنگ کے بعد اب یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس میں توسیع کی جائے گی یا نہیں۔
یہ سیز فائر بدھ کے روز کا اعلان کیا گیا تھا اور اب اس کے چار دن گزر چکے ہیں۔
آبنائے ہرمز کا معاملہ
مذاکرات کے شروع اور اختتام کے بعد آبنائے ہرمز کے مستقبل کے بارے میں بھی کوئی واضح تصویر سامنے نہیں آئی۔ صدر ٹرمپ اس حوالے سے بہت سخت موقف رکھتے ہیں اور ایران کو دی گئی ڈیڈ لائن بھی اسے کھولنے سے مشروط تھی۔
البتہ نائب صدر جے ڈی وینس نے صرف اتنا کہا کہ ایران کے جواب کا انتظار ہے۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ جواب کب تک متوقع ہے اور اگر ایران نے وقت پر جواب نہ دیا تو کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنا موقف جوں کا توں برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ایران کا جوہری پروگرام
امریکی نائب صدر کی بریفنگ سے یہ بھی واضح ہوا کہ ایران کا جوہری پروگرام سے متعلق موقف تبدیل نہیں ہوا۔ ان کے بقول ’ایران کی جانب سے کوئی پختہ عزم یا کمٹمنٹ نہیں ملا‘۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی وفد نے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے کوئی واضح عزم ظاہر نہیں کیا۔
اس لیے ایران کے جوہری پروگرام کا مستقبل بھی غیر واضح ہی رہا۔
اگلے مراحل اور ٹائم فریم کا کیا؟
امریکی وفد نے بے نتیجہ مذاکرات کا اعلان کرتے ہوئے واپس چلا گیا ہے، مگر اب یہ معلوم نہیں کہ آگے کیا ہوگا۔ متعدد اہم معاملات پر کوئی واضح ٹائم فریم طے نہیں ہوا۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا، اگر ہاں تو کس طرح اور کہاں، اور اگر نہیں تو کیا صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی اور خطے بھر میں پھیل جانے والی جنگ کو روکنے کے لیے پاکستان نے شروع سے ہی فعال کردار ادا کیا۔ کئی ہفتوں کی مسلسل کوششوں کے بعد پاکستان نہ صرف جنگ بندی کرانے میں کامیاب رہا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی سہولت بھی فراہم کی۔
نائب وزیر اعظم محمد اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکہ اور ایران بات چیت کا سلسلہ جاری رکھیں گے، البتہ فی الوقت صورتحال اب بھی غیر واضح ہے۔