عالمی سطح پر جوہری پالیسی کے حوالے سے ایک واضح تضاد ابھر کر سامنے آ رہا ہے، جہاں ایران کا جوہری پروگرام برسوں سے سخت نگرانی، پابندیوں اور سفارتی دباؤ کی زد میں ہے، جبکہ اسرائیل اپنی جوہری صلاحیت کے معاملے میں خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے اور اس پر شفافیت کے لیے کوئی نمایاں عالمی دباؤ دکھائی نہیں دیتا۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں ایران کو جوہری پروگرام کے باعث عالمی سطح پر مسلسل تنقید اور پابندیوں کا سامنا رہا۔ اس کے برعکس اسرائیل کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں، مگر اس نے نہ کبھی اس کی تصدیق کی اور نہ ہی تردید، اور اسی ابہام کی پالیسی کے باوجود اسے بین الاقوامی سطح پر کسی بڑی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
حالیہ مہینوں میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب اسرائیل اور امریکا نے ایران کے خلاف دو بڑی فوجی کارروائیاں کیں۔ ان کارروائیوں کا جواز ایران کے ممکنہ جوہری ہتھیار پروگرام کو قرار دیا گیا، تاہم اس حوالے سے کوئی ٹھوس شواہد سامنے نہیں آئے۔ ان جھڑپوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد جان سے گئے اور عالمی توانائی منڈی شدید بحران کا شکار ہو گئی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال عالمی نظام میں موجود دہرے معیار کو نمایاں کرتی ہے، جہاں قوانین اور اصول یکساں طور پر نافذ نہیں کیے جاتے۔ خاص طور پر این پی ٹی جیسے معاہدوں کے باوجود بعض ممالک کو سخت نگرانی کا سامنا ہے، جبکہ دیگر اس دائرے سے باہر رہ کر نسبتاً آزاد ہیں۔
اسرائیل کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ماہرین اسے ایک “کھلا راز” قرار دیتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ 1950 کی دہائی میں فرانس کی مدد سے اس پروگرام کی بنیاد رکھی گئی، جبکہ ڈیمونا جوہری مرکز کو ہتھیاروں کے لیے پلوٹونیم تیار کرنے کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اندازوں کے مطابق اسرائیل کے پاس درجنوں سے لے کر سینکڑوں تک جوہری وارہیڈز موجود ہو سکتے ہیں، تاہم درست معلومات سامنے نہیں آئیں۔
دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ایران این پی ٹی کا رکن ہے اور اس نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ معاہدوں کے تحت اپنی تنصیبات کو نگرانی کے لیے کھلا رکھا۔ 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) کے تحت ایران نے افزودگی محدود کرنے سمیت کئی شرائط تسلیم کیں، جن پر عالمی اداروں کے مطابق اس نے عمل بھی کیا۔
تاہم امریکا کی جانب سے معاہدے سے علیحدگی کے بعد صورتحال بدل گئی اور ایران نے اپنی جوہری سرگرمیوں میں بتدریج اضافہ کیا۔ اس کے باوجود عالمی سطح پر یہ بحث جاری ہے کہ آیا ایران واقعی جوہری ہتھیار بنانے کے قریب ہے یا نہیں، کیونکہ اس حوالے سے واضح شواہد سامنے نہیں آئے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے معاملے میں عالمی رویہ سیاسی مفادات سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کو مغربی اتحادی ہونے کی وجہ سے رعایت حاصل ہے، جبکہ ایران کو ایک مخالف طاقت سمجھتے ہوئے زیادہ دباؤ میں رکھا جاتا ہے۔
نتیجتاً، جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی اصولوں کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھ رہے ہیں، اور یہ بحث شدت اختیار کر رہی ہے کہ آیا عالمی قوانین واقعی سب کے لیے یکساں ہیں یا نہیں۔