امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی کے مستقبل پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ اگر بدھ تک مستقل امن معاہدہ طے نہ پایا تو جنگ بندی ختم کی جا سکتی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایریزونا کے شہر فینکس سے واشنگٹن واپسی کے دوران صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنگ بندی میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ بھی کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی بدستور برقرار رہے گی، اور اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ فضائی حملے شروع کیے جا سکتے ہیں۔
تاہم اس سخت بیان کے ساتھ صدر ٹرمپ نے امید بھی ظاہر کی کہ صورتحال بہتری کی جانب بڑھ رہی ہے اور ممکن ہے کہ جلد کوئی معاہدہ طے پا جائے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں حال ہی میں “بہت مثبت خبر” موصول ہوئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایران سے متعلق پیش رفت ہو رہی ہے۔
جب صحافیوں نے اس “اچھی خبر” کی تفصیل جاننے کی کوشش کی تو صدر ٹرمپ نے محتاط انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں جلد آگاہ کر دیا جائے گا، اور ان کے مطابق یہ پیش رفت “منطقی اور ناگزیر” ہے۔
بعد ازاں ایک مختصر ٹیلیفونک گفتگو میں بھی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ اب بالکل قریب ہے اور اس میں کوئی بڑی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملات حتمی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور جلد کوئی واضح نتیجہ سامنے آ سکتا ہے۔