امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی مذاکرات کار پیر کے روز پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد روانہ ہوں گے، جہاں ایران کے خلاف جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کیے جائیں گے، جس میں امریکہ اور اسرائیل فریق ہیں۔
اتوار کے روز سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ اس دوسرے مرحلے کے براہِ راست مذاکرات کے لیے امریکہ کی جانب سے کون سے اعلیٰ حکام بھیجے جائیں گے۔ گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس نے کی تھی، تاہم وہ بات چیت کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئی تھی۔
اپنے بیان میں امریکی صدر نے ایران پر الزام عائد کیا کہ اس نے مجوزہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے، جو بدھ کے روز ختم ہونا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ہفتے کے روز ایران نے آبنائے ہرمز میں فائرنگ کی، جسے انہوں نے اشتعال انگیزی قرار دیا۔
ٹرمپ نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے امریکہ کی پیش کردہ معاہدے کو قبول نہ کیا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔ ان کے مطابق:
“ہم ایک منصفانہ اور مناسب معاہدہ پیش کر رہے ہیں، مجھے امید ہے کہ وہ اسے قبول کریں گے، کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو امریکہ ایران کے ہر پاور
پلانٹ اور ہر پل کو تباہ کر دے گا۔”
جبکہ ایران سے تعلق رکھنے والے اور مذاکرات سے واقف ذرائع کے مطابق ایک ایرانی وفد منگل کے روز پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچے گا، جہاں امریکہ کے ساتھ بات چیت کی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وفد کی تشکیل گزشتہ دورِ مذاکرات جیسی ہی ہونے کا امکان ہے، جس میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف شامل تھے۔
ایرانی فریق کو توقع ہے کہ بدھ کے روز فریقین کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع سے متعلق ایک علامتی مشترکہ اعلان کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اگر معاملات مثبت انداز میں آگے بڑھتے ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسلام آباد آنے پر رضامند ہو جاتے ہیں، تو ایرانی صدر بھی پاکستان کا دورہ کریں گے۔ اس صورت میں دونوں رہنماؤں کے درمیان “مشترکہ صدارتی ملاقات” ہوگی، جس میں “اسلام آباد اعلامیہ” پر دستخط کیے جائیں گے۔
تاہم اب تک تہران کی جانب سے اس بات کی کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی کہ ایرانی مذاکرات کار اسلام آباد جائیں گے، خاص طور پر اس اعلان کے بعد کہ امریکہ اپنی ایک وفد پاکستان بھیج رہا ہے۔