امریکا ایران جنگ: ٹرمپ پر تنقید میں اضافہ، اسرائیل کے کردار پر سوالات

فہرستِ مضامین

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں اسرائیل کے دباؤ میں آنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں کسی نے جنگ میں نہیں دھکیلا۔ سماجی ذرائع ابلاغ پر اپنے بیان میں انہوں نے لکھا کہ “اسرائیل نے مجھے ایران کے خلاف جنگ پر آمادہ نہیں کیا، بلکہ 7 اکتوبر کے نتائج اور میرا دیرینہ مؤقف کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے، اس کی وجہ بنے۔”

تاہم اب تک کوئی عوامی ثبوت موجود نہیں کہ ایران براہِ راست حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے اسرائیل پر حملوں میں ملوث تھا۔ خود ٹرمپ کی انٹیلیجنس سربراہ تلسی گیبارڈ نے مارچ میں کانگریس کو بتایا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا۔

جنگ سے قبل آٹھ ماہ تک ٹرمپ مسلسل یہ دعویٰ کرتے رہے کہ جون میں امریکی فضائی حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو “مکمل طور پر تباہ” کر دیا ہے، لیکن ناقدین اس مؤقف کو چیلنج کرتے ہیں۔

ٹرمپ کے مخالفین کا کہنا ہے کہ ایران امریکا کے لیے فوری خطرہ نہیں تھا اور یہ جنگ دراصل اسرائیل کے مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے لڑی گئی، جس کی قیمت امریکی عوام کو چکانا پڑ رہی ہے۔

فروری میں ہونے والے امریکی-اسرائیلی حملوں—جن میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ حکام اور سینکڑوں شہری جاں بحق ہوئے—کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئیں۔

امریکا میں بھی توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا، جس نے مہنگائی کو ہوا دی۔ پٹرول کی قیمت 4 ڈالر فی گیلن سے اوپر برقرار ہے، جو جنگ سے قبل 3 ڈالر سے کم تھی، حالانکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی کو ایک ہفتے سے زائد ہو چکا ہے۔

ایک حالیہ سروے کے مطابق دو تہائی امریکی شہری ٹرمپ کی جنگ سے نمٹنے کی حکمت عملی کو ناپسند کرتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی عوامی ناراضی کے درمیان ناقدین اسرائیل کو اس جنگ کے پیچھے اصل طاقت قرار دے رہے ہیں اور ٹرمپ کو کمزور قیادت کا حامل بتا رہے ہیں جو اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے زیر اثر ہیں۔

2024 کے صدارتی انتخاب میں ٹرمپ کی حریف کاملا ہیرس نے کہا کہ “ٹرمپ ایک ایسی جنگ میں داخل ہوئے جسے امریکی عوام نہیں چاہتے تھے، اور وہ اس میں نیتن یاہو کے باعث کھنچے گئے۔”

ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں خود کو “امن کا امیدوار” قرار دیا تھا اور سابقہ حکومتوں کی شروع کردہ جنگیں ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ان کی قومی سلامتی حکمت عملی میں بھی مشرقِ وسطیٰ سے توجہ ہٹا کر مغربی نصف کرے پر مرکوز کرنے کی بات کی گئی تھی۔

اس کے باوجود، نیتن یاہو—جو ایک سال میں چھ مرتبہ امریکا کا دورہ کر چکے ہیں—ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے پر زور دیتے رہے، جبکہ واشنگٹن میں جنگ کے سب سے بڑے حامی بھی اسرائیل کے قریبی اتحادی ہیں۔

پیر کے روز ٹرمپ نے ایران جنگ کی کوریج پر مرکزی ذرائع ابلاغ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ “90 فیصد خبریں جھوٹ اور من گھڑت ہیں، جبکہ سروے بھی دھاندلی زدہ ہیں۔”

ٹرمپ نے وینزویلا میں اپنی پالیسیوں کو سراہتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہاں حالات مستحکم ہوئے ہیں، تاہم ایران میں امریکی-اسرائیلی حملوں کے بعد تقریباً چھ ہفتوں تک خلیج میں کشیدگی برقرار رہی اور آبنائے ہرمز بند رہی۔

فی الحال جنگ میں وقفہ ہے اور امکان ہے کہ اس ہفتے پاکستان میں امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان مزید مذاکرات ہوں۔ تاہم دونوں جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں لڑائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔ دو ہفتوں کی جنگ بندی بدھ کو ختم ہو رہی ہے۔

ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کہا کہ “جیسے وینزویلا میں نتائج سامنے آئے، ویسے ہی ایران میں بھی حیران کن نتائج آئیں گے، اور اگر ایران کی نئی قیادت سمجھداری دکھائے تو ملک ایک روشن اور خوشحال مستقبل حاصل کر سکتا ہے۔”

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں