ایرانی وزیر خارجہ کا دورۂ پاکستان، اہم سفارتی سرگرمیاں تیز

فہرستِ مضامین

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اپنے تین ملکی دورے کے پہلے مرحلے میں آج رات اسلام آباد پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ پاکستانی قیادت کے ساتھ خطے کی موجودہ صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر اہم مشاورت کریں گے۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ دورہ جمعے سے شروع ہو رہا ہے، جس کے تحت عراقچی اسلام آباد کے بعد مسقط اور ماسکو بھی جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق اس دورے کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا، خطے میں جاری پیش رفت کا جائزہ لینا اور ایران کے خلاف جاری کشیدگی کے تناظر میں حکمت عملی طے کرنا ہے۔

مذاکراتی عمل اور سفارتی سرگرمیاں

سرکاری ذرائع کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں۔ امریکی سکیورٹی اور لاجسٹک ٹیم پہلے ہی پاکستان پہنچ چکی ہے اور متوقع مذاکرات کے انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

اس سے قبل عباس عراقچی نے پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور آرمی چیف عاصم منیر سے ٹیلیفونک رابطے بھی کیے، جن میں خطے کی صورتحال، جنگ بندی اور سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق دونوں ممالک نے جاری کشیدگی کے خاتمے اور ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے اسلام آباد کے کردار پر بات چیت کی، جبکہ اسحاق ڈار نے مسائل کے حل کے لیے مسلسل مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستان کا ثالثی کردار

ایرانی وزیر خارجہ نے اس موقع پر خطے میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا اور دونوں ممالک نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

واضح رہے کہ پاکستان حالیہ کشیدگی کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اسلام آباد میں 11 اور 12 اپریل کو ہونے والے پہلے مذاکراتی دور میں دونوں ممالک کے وفود نے بالواسطہ بات چیت کی تھی، تاہم اس کے بعد پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔

مذاکرات کا مستقبل غیر یقینی

ذرائع کے مطابق ایران نے دوسرے مرحلے کے مذاکرات کے لیے وفد بھیجنے میں ہچکچاہٹ ظاہر کی ہے، جس سے سفارتی عمل متاثر ہوا ہے۔ اس کے باوجود پاکستان نے عندیہ دیا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں مذاکرات کی کامیابی کا دارومدار فریقین کی سنجیدگی اور آمادگی پر ہے، جبکہ آنے والے دن اس سفارتی عمل کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں