پاکستان نے نیا سنگِ میل عبور کر لیا: ای او-3 سیٹلائٹ کامیابی سے خلا میں روانہ

فہرستِ مضامین

اسلام آباد: پاکستان نے خلائی میدان میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنا مقامی طور پر تیار کردہ الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ EO-3 سیٹلائٹ کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیج دیا ہے، جسے ملک کی خلائی صلاحیتوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے

یہ سیٹلائٹ پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیر ریسرچ کمیشن کے زیرِ اہتمام چین کے تائی یوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے کامیابی کے ساتھ لانچ کیا گیا۔

جدید ٹیکنالوجی سے لیس سیٹلائٹ

ای او-3 صرف تصویری مشن تک محدود نہیں بلکہ اس میں جدید تجرباتی نظام بھی شامل ہیں۔ اس سیٹلائٹ میں ملٹی جیومیٹری امیجنگ ماڈیول نصب ہے جو تصویری درستگی کو بہتر بناتا ہے، جدید انرجی اسٹوریج سسٹم موجود ہے، جبکہ آن بورڈ مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیٹا پروسیسنگ یونٹ بھی شامل ہے جو حقیقی وقت میں تجزیہ اور فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس سیٹلائٹ کے شامل ہونے سے پاکستان کے زمین کا مشاہدہ کرنے والے سیٹلائٹ نظام میں نمایاں بہتری آئے گی، جس سے زرعی، شہری اور ماحولیاتی منصوبہ بندی میں مدد ملے گی۔

قومی خلائی صلاحیت میں اضافہ

ای او-3 کے ذریعے حاصل ہونے والا ڈیٹا زیادہ درست اور مربوط ہوگا، جس سے مختلف سماجی و معاشی شعبوں میں فیصلہ سازی بہتر ہونے کی توقع ہے۔

حکومتی ردعمل

وزیراعظم شہباز شریف نے اس کامیابی پر سپارکو کے سائنسدانوں اور انجینئرز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان کے خلائی پروگرام کو مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے چین کے مسلسل تعاون پر بھی شکریہ ادا کیا۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اس کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ لانچ پاکستان کی بڑھتی ہوئی سائنسی اور تکنیکی صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے، اور حکومت خلائی شعبے میں ملک کی موجودگی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

ای او-3 کی کامیاب لانچنگ پاکستان کے خلائی پروگرام میں ایک نئے دور کا آغاز قرار دی جا رہی ہے، جو مستقبل میں جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی ترقی کے مزید دروازے کھول سکتی ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں