پاکستان اور چین کے درمیان کراچی کے لیے پانی، زراعت اور چائے کے شعبوں میں اہم تعاون کے معاہدے
چین کے صوبے ہونان کے شہر چانگشا میں پاکستان اور چین کے درمیان تین مختلف ترقیاتی منصوبوں سے متعلق مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ اس اہم تقریب میں صدر آصف علی زرداری نے خصوصی شرکت کی، جبکہ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام اور کمپنی نمائندگان بھی موجود تھے۔
معاہدوں کے تحت کراچی میں پانی کی فراہمی میں بہتری، زرعی ٹیکنالوجی کی ترقی اور چائے کی صنعت کے فروغ کے لیے مشترکہ تعاون کیا جائے گا۔
سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کا منصوبہ
پہلا معاہدہ سندھ کے محکمہ بلدیات اور چینی کمپنی لوشیئن انوائرمنٹل ٹیکنالوجی گروپ کے درمیان طے پایا۔ اس منصوبے کا مقصد کراچی میں پانی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سمندری پانی کو قابلِ استعمال اور میٹھے پانی میں تبدیل کرنا ہے۔
اس معاہدے پر سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن اور چینی کمپنی کے چیئرمین یوہوئی نے دستخط کیے۔
زرعی ٹیکنالوجی میں تعاون
دوسرا معاہدہ سندھ کے محکمہ بلدیات اور چینی کمپنی لانگ پن ہائی ٹیک انفارمیشن کمپنی کے درمیان ہوا، جس کے تحت زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائی جائے گی۔
اس پر بھی سینئر وزیر شرجیل انعام میمن اور کمپنی کے چیئرمین چن ژی شین نے دستخط کیے۔
چائے کی صنعت کی ترقی کا معاہدہ
تیسرا مفاہمتی معاہدہ چائے کے شعبے سے متعلق ہے، جو مسکے اینڈ فیمٹی ٹریڈنگ کمپنی، ہونان ٹی گروپ اور جیالونگ انٹرنیشنل ٹیکنالوجی ہینان کے درمیان طے پایا۔
پاکستان کی جانب سے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے دستخط کیے، جبکہ چینی فریق کی نمائندگی ہونان ٹی گروپ کے چیئرمین ژو چونگ وانگ اور ہینان جیالونگ انٹرنیشنل ٹیکنالوجی کے چیئرمین ہاؤ جیاولونگ نے کی۔
یہ معاہدے نہ صرف صنعتی تعاون کو فروغ دیں گے بلکہ چائے کی صنعت کی ترقی، تجارتی روابط اور عوامی سطح پر تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔