ایران کی نئی پیشکش متوقع، امریکہ کے تحفظات برقرار مذاکراتی عمل غیر یقینی کا شکار

فہرستِ مضامین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ابتدائی مسودہ مسترد کیے جانے کے بعد سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز میں ایران کی طرف سے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ترمیم شدہ تجویز سامنے آ سکتی ہے۔ اس پیش رفت میں پاکستان میں سرگرم ثالثوں کا کردار اہم بتایا جا رہا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی روس کے دورے کے بعد تہران واپس جا کر اعلیٰ قیادت سے مشاورت کریں گے، جس کے بعد نئی حکمت عملی کو حتمی شکل دی جائے گی۔

مذاکرات میں تعطل کی وجوہات

رپورٹس کے مطابق مذاکراتی عمل میں سست روی کی ایک بڑی وجہ ایرانی قیادت کے ساتھ براہ راست رابطے میں مشکلات ہیں۔ خاص طور پر رہبر اعلیٰ کی موجودگی اور فیصلوں تک رسائی محدود ہونے کے باعث پیش رفت متاثر ہو رہی ہے۔

اس کے باوجود سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بات چیت کا سلسلہ مکمل طور پر رکا نہیں بلکہ پس پردہ رابطے جاری ہیں، اور آئندہ پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ایران کس حد تک قابل قبول نئی تجاویز پیش کرتا ہے۔

ایرانی تجویز اور امریکی مؤقف

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی ایران کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی تجویز پر عدم اطمینان ظاہر کر چکے ہیں۔ حکام کے مطابق واشنگٹن اس تجویز کو قبول کرنے کے حق میں نہیں، خاص طور پر اس لیے کہ اس میں کچھ اہم نکات کو مؤخر کرنے کی بات کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکہ کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو کھول دیا گیا اور بحری محاصرہ ختم کر دیا گیا، تو ایران پر موجود دباؤ کم ہو جائے گا، جبکہ یورینیم افزودگی اور ممکنہ فوجی استعمال سے متعلق اہم معاملات ابھی حل طلب رہیں گے۔

ایرانی مؤقف یہ رہا ہے کہ جوہری پروگرام پر مذاکرات کو جنگ کے خاتمے اور بحری تنازعات کے حل تک مؤخر کیا جائے، تاہم امریکہ شروع سے ہی جوہری مسئلے کو ترجیح دینے پر زور دیتا رہا ہے۔

سفارتی کوششیں اور بڑھتی بے یقینی

جنگ کے خاتمے کی امیدوں کو اس وقت دھچکا لگا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے نمائندوں کا مجوزہ دورہ اسلام آباد منسوخ کر دیا۔ اس کے برعکس عباس عراقچی حالیہ دنوں میں دو مرتبہ پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں تاکہ ایرانی تجاویز براہ راست پہنچائی جا سکیں۔

پاکستان بدستور دونوں فریقین کے درمیان مفاہمت کی کوششوں میں مصروف ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اگر جلد پیش رفت نہ ہوئی تو خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔

سفارتی محاذ پر سرگرمیاں جاری ہیں، مگر واضح پیش رفت کا انحصار ایران کی نئی پیشکش اور امریکہ کے ردعمل پر ہے۔ فی الحال صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے اور کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا ابھی دور دکھائی دیتا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں