ترتیب: اِشفاق احمد
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگی حکمتِ عملی مسلسل بدلتی دکھائی دے رہی ہے، جبکہ تقریباً 10 ہفتوں سے جاری تنازع اب تک کسی واضح انجام تک نہیں پہنچ سکا۔ سیاسی اور عسکری ماہرین کے مطابق ٹرمپ ایک ایسی جنگ میں پھنس چکے ہیں جسے ابتدا میں چند ہفتوں میں ختم کرنے کا تصور کیا گیا تھا۔
امریکی میڈیا تجزیوں کے مطابق ٹرمپ کو اس وقت دو بڑے دباؤ کا سامنا ہے۔ ایک طرف ایران آبنائے ہرمز پر اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے عالمی معیشت پر دباؤ ڈال رہا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکا میں بڑھتی مہنگائی، پٹرول کی قیمتوں اور عوامی مخالفت نے وائٹ ہاؤس کے لیے جنگ جاری رکھنا سیاسی طور پر مشکل بنا دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی عوام میں جنگ کے خلاف ردعمل بڑھ رہا ہے، جبکہ صدر ٹرمپ کی مقبولیت بھی کم ترین سطح کے قریب پہنچ چکی ہے۔ ایسے حالات میں ان کے لیے نہ مکمل فوجی پسپائی آسان ہے اور نہ ہی جنگ کو مزید وسعت دینا۔
ایک صفحے کا معاہدہ، کیا واقعی جنگ ختم کر سکے گا؟
سی این این کے مطابق امریکا، ایران اور ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستان کے درمیان ایک مختصر مفاہمتی مسودے پر مذاکرات جاری ہیں۔ اس ایک صفحے کی دستاویز کا مقصد جنگ بندی اور اہم تنازعات کے حل کے لیے 30 روزہ فریم ورک طے کرنا بتایا جا رہا ہے۔
تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ تقریباً نصف صدی پر محیط امریکا ایران تنازع، ایٹمی پروگرام، میزائل پالیسی اور خطے میں پراکسی نیٹ ورکس جیسے پیچیدہ معاملات کو صرف ایک مختصر معاہدے سے حل کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
ایران بھی اپنی معیشت کی بحالی کے لیے وسیع پابندیوں میں نرمی اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والی عالمی تجارت سے معاشی فوائد چاہتا ہے، جسے وہ اب ایک اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
“ایپک فیوری” سے “پراجیکٹ فریڈم” تک، امریکی حکمتِ عملی بار بار تبدیل
رپورٹ کے مطابق امریکا کی فوجی حکمتِ عملی مسلسل غیر واضح رہی ہے۔ کبھی “آپریشن ایپک فیوری” کے تحت شدید بمباری کی گئی، کبھی ایران کی بندرگاہوں اور جہازوں کی ناکہ بندی شروع کی گئی، جبکہ بعد میں “پراجیکٹ فریڈم” کے نام سے آبنائے ہرمز کھلوانے کی نئی کارروائی شروع کی گئی۔
لیکن حیران کن طور پر یہ آپریشن صرف چند گھنٹوں بعد ہی روک دیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے اس فیصلے کو امن مذاکرات کے لیے مثبت ماحول پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا، تاہم ناقدین کے مطابق اس سے امریکا کے عزم پر سوالات اٹھے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ بار بار ایسی “فوری کامیابی” کی حکمتِ عملی اپنا رہے ہیں جس کے تحت ایک بڑے اقدام سے ایران کو جھکانے کی کوشش کی جاتی ہے، مگر اب تک کوئی بھی کارروائی تہران کی قیادت یا پاسدارانِ انقلاب کے ڈھانچے کو کمزور نہیں کر سکی۔
ایران نے جنگ کو بقا کی لڑائی بنا دیا
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اس تنازع کو اپنی اسلامی انقلابی حکومت کی بقا کی جنگ سمجھ رہا ہے، اسی لیے امریکی حملوں اور پابندیوں کے باوجود وہاں حکومتی ڈھانچے میں کسی بڑی دراڑ کے آثار نظر نہیں آئے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ امریکا نے اگرچہ ایران کی بحری اور فضائی صلاحیتوں کو نقصان پہنچانے کے دعوے کیے ہیں، لیکن زمینی فوج نہ اتارنے کی پالیسی کے باعث فیصلہ کن عسکری فتح حاصل کرنا ممکن نہیں ہو سکا۔
آبنائے ہرمز نے جنگ کا توازن بدل دیا
ماہرین کے مطابق جنگ شروع ہونے سے پہلے آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے کھلی ہوئی تھی، لیکن اب ایران نے اس راستے کو اپنے سب سے مؤثر دباؤ کے ہتھیار میں تبدیل کر دیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اعتراف کیا کہ واشنگٹن کی خواہش ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ مکمل طور پر کھولی جائے تاکہ جہاز آزادانہ گزر سکیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ حقیقت کہ اب یہی آبی راستہ امریکا ایران مذاکرات کا مرکزی نکتہ بن چکا ہے، اس بات کی علامت ہے کہ جنگ کا اسٹریٹجک توازن کسی حد تک تہران کے حق میں جھک گیا ہے۔
مہنگا تیل، دباؤ میں معیشت اور بڑھتے خدشات
ادھر عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں مسلسل بلند رہنے سے امریکی کمپنیوں اور عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر تنازع جلد ختم نہ ہوا تو اس کے معاشی اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کی بار بار بدلتی حکمتِ عملی، غیر واضح بیانات اور فوری سفارتی کامیابیوں کے دعوے اس تاثر کو مضبوط کر رہے ہیں کہ واشنگٹن اب تک اس جنگ کے واضح اور قابلِ عمل اختتام تک پہنچنے میں ناکام رہا ہے۔