لندن: برطانیہ میں ہونے والے مقامی اور علاقائی انتخابات کے ابتدائی نتائج نے وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور ان کی حکمران لیبر پارٹی کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، جبکہ نائجل فاریج کی جماعت ریفارم یوکے غیر معمولی کامیابیاں حاصل کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
ابتدائی گنتی کے مطابق لیبر پارٹی کو درجنوں اہم کونسل نشستوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، خاص طور پر شمالی انگلینڈ اور مڈلینڈز کے اُن علاقوں میں جو کئی دہائیوں سے لیبر کے مضبوط گڑھ سمجھے جاتے تھے۔
اب تک ریفارم یوکے انگلینڈ بھر میں 382 سے زائد کونسل نشستیں جیت چکی ہے، جبکہ لیبر تقریباً 258 نشستیں کھو چکی ہے۔ کنزرویٹو پارٹی بھی شدید نقصان سے دوچار ہوئی ہے اور اس کی بڑی تعداد میں نشستیں بھی ریفارم کے حصے میں گئی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ نتائج برطانوی سیاست میں ایک “تاریخی تبدیلی” کی علامت ہیں، جہاں روایتی لیبر اور کنزرویٹو جماعتوں کی جگہ اب نئی سیاسی قوتیں ابھر رہی ہیں۔
لیبر کے قلعے ڈھے گئے
نتائج کے مطابق ویگن، بولٹن، سالفورڈ اور ہالٹن جیسے علاقوں میں لیبر کو بدترین شکست ہوئی، جبکہ ٹیمسائیڈ کونسل پر تقریباً 50 برس بعد لیبر کا کنٹرول ختم ہو گیا۔
سالفورڈ سے لیبر کی رکن پارلیمنٹ ربیکا لانگ بیلی نے نتائج کو “روح شکن” قرار دیا۔
برطانوی ماہرِ سیاسیات جان کرٹس کے مطابق:
“صورتحال لیبر کے لیے توقعات سے بھی زیادہ خراب دکھائی دے رہی ہے۔”
اسٹارمر کی کرسی خطرے میں؟
سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا کیئر اسٹارمر اپنی پوزیشن برقرار رکھ پائیں گے؟
رپورٹس کے مطابق اگر لیبر اسکاٹ لینڈ اور ویلز میں مزید خراب کارکردگی دکھاتی ہے تو پارٹی کے اندر اسٹارمر سے استعفیٰ یا اقتدار چھوڑنے کی ٹائم لائن دینے کا مطالبہ بڑھ سکتا ہے۔
یاد رہے کہ اسٹارمر نے 2024 کے عام انتخابات میں تاریخی اکثریت حاصل کی تھی، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد انہیں پالیسی تبدیلیوں، مشیروں کے تنازعات اور کئی سیاسی بحرانوں کا سامنا رہا۔
خاص طور پر پیٹر مینڈلسن کی بطور امریکی سفیر تقرری اور بعد ازاں جیفری ایپسٹین سے تعلقات کے تنازع پر برطرفی نے حکومت کو شدید تنقید کی زد میں رکھا۔
گرین پارٹی بھی میدان میں آگئی
دوسری جانب گرین پارٹی نے بھی 27 نئی نشستیں حاصل کر لی ہیں، جبکہ لبرل ڈیموکریٹس کی پوزیشن بھی مضبوط ہوئی ہے۔
گرین پارٹی کے رہنما زیک پولانسکی نے پارٹی کو مزید بائیں بازو کی پالیسیوں کی طرف منتقل کرتے ہوئے امیروں پر زیادہ ٹیکس، کرایہ کنٹرول، منشیات کو قانونی حیثیت دینے اور اسرائیل کی حمایت ختم کرنے جیسے مطالبات پیش کیے ہیں۔