ترتیب: اِشفاق احمد
مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری 2026 کو ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کے بارے میں ایک نئی تجزیاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ واشنگٹن اس جنگ کو مالی، عسکری اور سیاسی طور پر قابلِ قبول قیمت پر جیتنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
رپورٹ کے مطابق اگر جنگ میں دوبارہ شدت آئی تو خطے کے تیل، گیس اور ڈی سیلینیشن پلانٹس شدید تباہی کا شکار ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی معیشت طویل بحران میں داخل ہو سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران ایسی بھاری قیمت عائد کرنے کی پوزیشن میں ہے جسے امریکا برداشت نہیں کر سکتا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکا اور اسرائیل کی ابتدائی حکمتِ عملی ایران کی قیادت، ایٹمی پروگرام اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے اعلیٰ کمانڈرز کو نشانہ بنا کر تہران میں حکومت کی بنیادیں ہلانا تھیں، تاکہ بعد ازاں اپنی حمایت یافتہ حکومت قائم کی جا سکے۔
دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی صدر Donald Trump کو یہ یقین دلایا گیا تھا کہ ایران میں بھی ویسا ہی منظرنامہ سامنے آئے گا جیسا وینزویلا میں پیش آیا، جہاں جنوری 2026 میں مبینہ امریکی خفیہ آپریشن کے نتیجے میں صدر Nicolás Maduro اقتدار سے الگ ہوئے تھے۔
تاہم رپورٹ کے مطابق ایران میں یہ منصوبہ ناکام رہا کیونکہ ایران کو وینزویلا سے مکمل طور پر مختلف ملک قرار دیا گیا ہے۔ تجزیے میں کہا گیا کہ ایرانی حکومت ٹوٹنے کے بجائے مزید متحد ہو گئی، جبکہ IRGC نے اپنی اندرونی کمان مضبوط کر لی۔ ایرانی مذہبی و سیاسی قیادت بھی ایک صفحے پر آ گئی اور عوام نے بیرونی حملے کے خلاف حکومت کا ساتھ دیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دو ماہ گزرنے کے باوجود امریکا اور اسرائیل ایران میں اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنے یا جنگی کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس وقت واحد ممکنہ راستہ امریکی پسپائی دکھائی دیتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز پر ایران کا اثر و رسوخ مزید بڑھ چکا ہے۔
تجزیے کے مطابق امریکا کی ناکامی کی کئی بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ بتائی گئی کہ واشنگٹن نے ایران کی تاریخی، ثقافتی اور قومی طاقت کو کم سمجھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران پانچ ہزار سالہ تہذیب رکھنے والا ملک ہے جو بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔
دوسری اہم وجہ ایران کی ٹیکنالوجیکل ترقی کو قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے شدید پابندیوں کے باوجود جدید بیلسٹک میزائل، ڈرون پروگرام اور مقامی دفاعی صنعت قائم کی، جو اس کی بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔
اسی طرح جدید جنگی ٹیکنالوجی میں بھی ایران کو برتری حاصل ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ایرانی ڈرونز اور میزائل کم لاگت کے باوجود امریکی دفاعی نظام کے لیے انتہائی مہنگا چیلنج بن چکے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک ایرانی ڈرون کی لاگت تقریباً 20 ہزار ڈالر جبکہ اسے تباہ کرنے والے امریکی میزائل کی قیمت تقریباً 40 لاکھ ڈالر بتائی گئی ہے۔
رپورٹ میں امریکی پالیسی سازی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ دعویٰ کیا گیا کہ جنگ کا فیصلہ محدود حلقے میں کیا گیا اور قومی سلامتی کے روایتی اداروں کو نظر انداز کیا گیا۔ سابق امریکی عہدیدار کے استعفے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ فیصلہ سازی “ایکو چیمبر” میں تبدیل ہو چکی تھی۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق ممکنہ طور پر جنگ کا اختتام تقریباً پرانی صورتحال کی بحالی پر ہوگا، لیکن تین بڑی تبدیلیاں سامنے آئیں گی
آبنائے ہرمز پر ایران کا زیادہ کنٹرول
ایران کی دفاعی صلاحیت میں اضافہ
خلیج میں امریکی فوجی موجودگی میں کمی
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف مزید محاذ کھولنے میں دلچسپی نہیں رکھتا کیونکہ وہ خطے میں استحکام اور معاشی تعاون چاہتا ہے۔ ساتھ ہی روس اور چین جیسے اتحادی ممالک بھی خطے میں استحکام کے خواہاں ہیں۔
آخر میں رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ Donald Trump ممکنہ امریکی پسپائی کو کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کریں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران کو کمزور سمجھنا ایک بڑی غلطی ثابت ہوا۔ تجزیے کے مطابق امریکا اب طاقت کے ذریعے حکومتیں بدلنے کی پالیسی ترک کر کے سفارتکاری اور بین الاقوامی قانون کی طرف واپس آئے۔