قطر کے سابق وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ حمد بن جاسم آل ثانی نے کہا ہے کہ ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جنگ اچانک نہیں ہوئی بلکہ یہ مشرقِ وسطیٰ کو نئی شکل دینے کے ایک طویل اسرائیلی منصوبے کا حصہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کا بحران پوری دنیا کی معیشت کیلئے سب سے بڑا خطرہ بن سکتا ہے، جبکہ خلیجی ممالک کو متحد ہوکر “گلف نیٹو” بنانے کی ضرورت ہے۔
الجزیرہ کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شیخ حمد بن جاسم نے کہا کہ خطہ اس وقت ایک بڑے جغرافیائی اور سیاسی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے اور آج کے فیصلے آنے والی کئی دہائیوں تک مشرقِ وسطیٰ کی سمت طے کریں گے۔
انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر الزام عائد کیا کہ وہ کئی برسوں سے امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کے مطابق نیتن یاہو نے واشنگٹن کو یہ تاثر دیا کہ ایران کے خلاف جنگ مختصر ہوگی اور چند ہفتوں میں ایرانی حکومت کمزور پڑ جائے گی، مگر صورتحال اس کے برعکس نکلی۔
شیخ حمد نے کہا کہ امریکا کی اصل طاقت جنگ نہیں بلکہ جنگ سے بچنے میں رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر رواں سال جنیوا میں مذاکرات کو مزید وقت دیا جاتا تو شاید یہ تباہ کن جنگ ٹالی جا سکتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اس جنگ کے بعد سب سے زیادہ فائدہ نیتن یاہو کو ہوا، جو اب خطے میں اپنی مرضی کے اتحاد قائم کرنے اور “گریٹر اسرائیل” کے تصور کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کیلئے نیا خطرناک محاذ؟
سابق قطری وزیراعظم نے کہا کہ ایران نے ابتدائی حملے برداشت کرنے کے بعد آبنائے ہرمز کو ایک اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ ان کے مطابق ایران اب اس اہم سمندری راستے کو تقریباً اپنی خودمختار حدود کی طرح دیکھ رہا ہے، جو عالمی معیشت کیلئے ایرانی جوہری پروگرام سے بھی بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بحران کا سب سے زیادہ نقصان خلیجی ممالک نے اٹھایا ہے، کیونکہ توانائی، صنعت اور شہری تنصیبات کو شدید خطرات لاحق ہوئے۔ شیخ حمد نے ایران پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک نے جنگ کی مخالفت کی تھی، اس کے باوجود ان کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
تاہم انہوں نے زور دیا کہ جغرافیہ خلیجی ممالک اور ایران کو ساتھ رہنے پر مجبور کرتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ خلیجی ریاستیں متحد ہوکر تہران کے ساتھ کھلے اور مشترکہ مذاکرات کریں۔
“گلف نیٹو” کی تجویز
شیخ حمد بن جاسم نے کہا کہ خلیج کیلئے سب سے بڑا خطرہ ایران یا اسرائیل نہیں بلکہ خود خلیجی ممالک کا آپسی اختلاف ہے۔ اسی لیے انہوں نے “گلف نیٹو” جیسا مشترکہ دفاعی اتحاد بنانے کی تجویز دی، جس میں سعودی عرب مرکزی کردار ادا کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب اپنی توجہ ایشیا اور چین کی جانب منتقل کر رہا ہے، اس لیے خلیجی ممالک مستقبل میں مکمل طور پر امریکی سیکیورٹی پر انحصار نہیں کرسکتے۔ انہوں نے ترکی، پاکستان اور مصر جیسے ممالک کے ساتھ طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری پر بھی زور دیا۔
غزہ پر اسرائیل شدید تنقید کی زد میں
شیخ حمد نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو “اخلاقی اور سیاسی تباہی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہزاروں فلسطینیوں کی ہلاکت نے دنیا بھر میں غم و غصہ پیدا کیا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل غزہ کو خالی کراکے اسے ایک “ریئل اسٹیٹ منصوبے” میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ آزاد فلسطینی ریاست کی ضمانت کے بغیر حماس کو غیر مسلح کرنے کی کوئی بات قابلِ قبول نہیں ہوسکتی۔ ساتھ ہی انہوں نے سعودی عرب کے اس مؤقف کو سراہا کہ فلسطینی ریاست کے واضح روڈ میپ کے بغیر اسرائیل سے تعلقات معمول پر نہیں لائے جائیں گے۔
شام اور پرانا خفیہ سفارتی انکشاف
شیخ حمد بن جاسم نے انکشاف کیا کہ 1990 کی دہائی کے آخر میں قطر نے امریکا کا ایک اہم پیغام ایران تک پہنچایا تھا، جس میں تہران سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنے ابتدائی جوہری پروگرام کو روس کے حوالے کرے یا بین الاقوامی نگرانی قبول کرے۔
انہوں نے شام کے حوالے سے بھی کہا کہ بشار الاسد حکومت کے خاتمے پر انہیں اطمینان ہے، جبکہ نئی شامی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ جنگ کے بجائے معیشت اور اداروں کی بحالی پر توجہ دے۔