پاکستان نے بنوں میں ہونے والے ہولناک خودکش حملے کے بعد اسلام آباد میں تعینات افغان سفارتی مشن کے سربراہ کو دفترِ خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔ حکام کے مطابق حملے کی ابتدائی تحقیقات اور تکنیکی شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کارروائی کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر نے کی۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہفتے کے روز بنوں میں ایک خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی سیکیورٹی چیک پوسٹ سے ٹکرا دی، جس کے فوراً بعد درجنوں مسلح افراد نے پولیس اہلکاروں پر شدید فائرنگ شروع کر دی۔ اس خونی حملے میں کم از کم 15 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔
دفترِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ افغان ناظم الامور کو واضح طور پر آگاہ کیا گیا ہے کہ دستیاب شواہد، انٹیلیجنس رپورٹس اور تحقیقات اس حملے کے تانے بانے افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس سے جوڑتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ معمول کی کارروائی نہیں تھا بلکہ اس میں جدید اسلحے اور کواڈ کاپٹر ڈرونز کا بھی استعمال کیا گیا۔ بنوں کے ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار کے مطابق 100 سے زائد عسکریت پسند اس حملے میں شریک تھے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کارروائی انتہائی منظم انداز میں کی گئی۔
واقعے پر اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام امن اور دہشت گردی سے پاک مستقبل کے حق دار ہیں۔
ادھر پاک افغان تعلقات میں کشیدگی مزید بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان مسلسل یہ مؤقف اپناتا آیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجو افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں، جبکہ افغان طالبان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ مہینوں میں سرحدی تناؤ میں اضافہ ہوا ہے اور بعض مواقع پر یہ کشیدگی مسلح جھڑپوں اور فضائی کارروائیوں تک جا پہنچی ہے۔