محسن نقوی تہران پہنچ گئے، خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں تیز

فہرستِ مضامین

پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی سنیچر کے روز ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے جہاں وہ اعلیٰ ایرانی حکام سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، ایرانی سرکاری میڈیا نے بتایا ہے کہ پاکستان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً ایران، امریکہ تنازع اور آبنائے ہرمز سے جڑے حساس حالات میں کمی لانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محسن نقوی کا یہ دو روزہ دورہ پاکستان کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد مذاکرات میں سہولت فراہم کرنا اور خطے میں امن کے امکانات کو فروغ دینا ہے۔

تہران پہنچنے پر ایران کے وزیر داخلہ سکندر مومنی نے ان کا استقبال کیا۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب کچھ روز قبل پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر بھی تہران کا دورہ کر چکے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط میں تیزی نظر آ رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں سفارتی ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے نمائندہ وفود کے درمیان ایک اہم اور حساس ملاقات کی میزبانی بھی کی جا چکی ہے۔

خطے میں حالیہ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہوئی جب اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد وقتی طور پر لڑائی میں کمی آئی، جو فروری میں کشیدگی بڑھنے کے بعد شروع ہوئی تھی۔

ادھر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران کو واشنگٹن کی جانب سے ایسے اشارے مل رہے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔

اسی طرح ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکہ کو ایران کی امن تجویز قبول کرنی چاہیے، ورنہ ناکامی اس کا مقدر ہوگی۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں زور دیا کہ ایرانی عوام کے حقوق کو تسلیم کیے بغیر کوئی بھی راستہ کامیاب نہیں ہو سکتا، اور اس کے برعکس تمام کوششیں ناکامی پر منتج ہوں گی۔

خطے میں جاری ان سفارتی پیش رفتوں کے درمیان پاکستان کی کوششیں ایک بار پھر اس کے ثالثی کردار کو نمایاں کر رہی ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں