ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس کا فیصلہ، ملزم عمر حیات کو سزائے موت

فہرستِ مضامین

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے معروف ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے ملزم عمر حیات کو سزائے موت کا حکم دے دیا۔

ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف جرم ثابت کرنے میں کامیاب رہا، لہٰذا اسے قتل کے جرم میں موت کی سزا دی جاتی ہے۔

عدالت نے قتل کے علاوہ دیگر دفعات کے تحت بھی ملزم کو مجموعی طور پر 30 سال قید اور 24 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ فیصلے کے مطابق ڈکیتی اور گھر میں داخل ہونے سے متعلق دفعات میں بھی عمر حیات کو الگ الگ 10، 10 سال قید کی سزا دی گئی۔

یاد رہے کہ ملزم عمر حیات کو گزشتہ سال جون میں فیصل آباد سے گرفتار کیا گیا تھا، جب 17 سالہ ٹک ٹاکر ثنا یوسف کو اسلام آباد کے سیکٹر جی 13 میں واقع گھر کے اندر فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔

عدالتی کارروائی کے دوران ملزم نے دفعہ 342 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے تمام الزامات مسترد کر دیے تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کا ثنا یوسف کے ساتھ کسی قسم کا رابطہ یا تنازع نہیں تھا اور نہ ہی اس نے کبھی ملاقات کی کوشش کی۔

ملزم نے دعویٰ کیا کہ اسے صرف شک کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا کیونکہ دونوں سوشل میڈیا پر معروف تھے۔ اس کے مطابق سوشل میڈیا پر دباؤ بڑھنے کے باعث پولیس نے اسے مقدمے میں شامل کیا۔

سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں ویڈیوز بنانے پر جج نے سخت برہمی کا اظہار بھی کیا اور ہدایت دی کہ عدالت کے اندر کسی قسم کی ویڈیو یا ٹک ٹاک نہ بنائی جائے۔

ملزم نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ پولیس نے کرائے کے معاہدے سے متعلق جعلی دستاویزات تیار کیں۔

واضح رہے کہ چترال سے تعلق رکھنے والی ثنا یوسف اپنے والدین کے ساتھ اسلام آباد میں مقیم تھیں اور ٹک ٹاک پر خاصی مقبول تھیں۔ دو جون کو پیش آنے والے واقعے کے بعد پولیس نے ملزم کی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کی تھی، جس میں اسے جائے وقوعہ سے نکلتے ہوئے دیکھا گیا تھا، جبکہ اگلے ہی روز فیصل آباد سے اس کی گرفتاری کا دعویٰ کیا گیا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں