ماہرینِ موسمیات نے فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا (FIFA) کو خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث 2026 کے ورلڈ کپ میں شدید گرمی اور خطرناک حد تک نمی کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ چکا ہے۔
کلائمیٹ سائنسدانوں کے عالمی نیٹ ورک ورلڈ ویدر اٹریبیوشن (WWA) کے مطابق 1994 میں امریکہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کے مقابلے میں اب شمالی امریکہ میں درجہ حرارت کہیں زیادہ خطرناک سطح تک پہنچ سکتا ہے، جس سے کھلاڑیوں اور شائقین دونوں کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2026 کا ورلڈ کپ امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کے 16 اسٹیڈیمز میں 11 جون سے 19 جولائی تک کھیلا جائے گا۔ ان میں سے تقریباً 104 میچز میں سے 26 میچ ایسے حالات میں کھیلے جا سکتے ہیں جہاں “ویٹ بلب گلوب ٹمپریچر” 26 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ ہو سکتا ہے، جو انسانی جسم کے لیے خطرناک حد تصور کی جاتی ہے۔
اسی خطرے کے پیش نظر کھلاڑیوں کی عالمی یونین فیف پرو (FIFPRO) پہلے ہی فی ہاف “کولنگ بریک” کو لازمی قرار دینے کی سفارش کر چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق 26 میں سے 17 میچ ایسے اسٹیڈیمز میں ہوں گے جہاں کولنگ سسٹم موجود ہے، تاہم باقی میچز کھلے اور گرم ماحول میں کھیلے جانے کا خدشہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق پانچ میچ ایسے حالات میں ہو سکتے ہیں جہاں درجہ حرارت 28 ڈگری یا اس سے بھی زیادہ پہنچ جائے، جو میچ ملتوی کرنے کی سطح سمجھی جاتی ہے۔
کلائمیٹ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ 1994 کے مقابلے میں اس طرح کے خطرناک حد تک گرم میچز کی تعداد تقریباً دوگنا ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ شائقین بھی شدید خطرے میں ہوں گے کیونکہ وہ کھلے ماحول میں طویل وقت گزارتے ہیں اور طبی سہولیات فوری طور پر دستیاب نہیں ہوتیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈلاس، ہیوسٹن اور اٹلانٹا کے اسٹیڈیمز میں ایئر کنڈیشننگ موجود ہے، تاہم باقی مقامات پر صورتحال زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے۔ فائنل میچ جو 19 جولائی کو نیو جرسی کے میٹ لائف اسٹیڈیم (MetLife Stadium) میں کھیلا جائے گا، وہاں بھی شدید گرمی کا خطرہ موجود ہے۔
اقوام متحدہ کے کلائمیٹ چیف نے بھی خبردار کیا ہے کہ خطرناک گرمی کا خطرہ 1994 کے بعد دوگنا ہو چکا ہے، اور اس سے کھیل اور شائقین دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔
ادھر فیفا نے کہا ہے کہ وہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے، اور موسم کی شدت بڑھنے کی صورت میں پہلے سے تیار کردہ حفاظتی اقدامات اور ہنگامی پروٹوکول نافذ کیے جائیں گے۔