عارف حسین شاہ کو سینیٹ ملازم حمزہ خان کے اغوا اور قتل کیس میں عدالت نے سزائے موت سنا دی۔ اسلام آباد کی مقامی عدالت نے بدھ کے روز محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم پر 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے شریک ملزمان صابر شاہ اور ثقلین کو عمر قید کی سزا سنائی، جبکہ دونوں پر 20،20 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف جرم ثابت کرنے میں کامیاب رہا اور پیش کیے گئے شواہد ناقابلِ تردید ہیں۔ پراسیکیوشن کی جانب سے مجموعی طور پر 17 گواہان عدالت میں پیش کیے گئے جنہوں نے واقعے، ملزمان کی نقل و حرکت اور دیگر اہم پہلوؤں کی تصدیق کی۔
کیس کیسے سامنے آیا؟
تحقیقات کے مطابق مارچ 2025 میں حمزہ خان کو اسلام آباد کے سیکٹر جی-7 سے اغوا کیا گیا تھا، جس کا مقدمہ تھانہ آبپارہ میں درج کیا گیا۔ بعد ازاں انکشاف ہوا کہ اغوا کے بعد انہیں قتل کر دیا گیا تھا۔
پولیس تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ مقتول کی لاش مانسہرہ میں ملزم عارف حسین شاہ کے آبائی گھر سے برآمد ہوئی، جہاں لاش کو گھر کے باغیچے میں دفن کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق مقتول اور مرکزی ملزم کے درمیان زمین کے تنازع نے دشمنی کو جنم دیا۔ ملزمان نے واردات کے بعد پولیس کو گمراہ کرنے کے لیے حمزہ خان کے موبائل فون اسلام آباد کے جی-10 میٹرو اسٹیشن کے قریب پھینک دیے تھے تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ مقتول واپس شہر آ چکا ہے۔
جدید فورینزک نے معمہ حل کر دیا
اسلام آباد پولیس نے جدید فورینزک ٹیکنالوجی اور ہیومن انٹیلی جنس کی مدد سے کیس کی گتھی سلجھائی۔ تفتیش کے دوران ملزمان گرفتار ہوئے اور ان کے اعترافِ جرم کے بعد لاش برآمد کی گئی۔
اس کیس کی تحقیقات محمد جواد طارق کی نگرانی میں کی گئیں۔ ان کے مطابق مقتول کا آخری رابطہ عارف حسین شاہ سے ہوا تھا، جس کے بعد خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی۔
سابق ایس پی کا ماضی بھی متنازع
تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ عارف حسین شاہ ماضی میں مانسہرہ کی ایک خاتون پولیس اہلکار کے قتل کیس میں بھی نامزد رہ چکے تھے۔ اسی بنا پر انہیں قبل از وقت جبری ریٹائرمنٹ دی گئی تھی، تاہم بعد میں بھی وہ مبینہ طور پر مختلف مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہے۔
حمزہ خان قتل کیس کی 40 سے زائد سماعتیں ہوئیں، جن کے بعد عدالت نے شواہد کی بنیاد پر فیصلہ سنایا۔
دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ جدید تفتیشی تقاضوں اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر دونوں بڑے قتل کیسز ٹریس کیے گئے اور ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا گیا۔