امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور مذاکرات کے حوالے سے سخت مؤقف اپناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران کو اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخائر سے دستبردار ہونا ہوگا، تاہم اس کے بدلے امریکا کسی قسم کی پابندیوں میں نرمی نہیں کرے گا۔
امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران شدید دباؤ اور تباہی کے دہانے پر پہنچنے کے بعد مذاکرات کی میز پر آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کے لیے سب سے بڑی ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، اسی لیے افزودہ یورینیم کا معاملہ مذاکرات کی بنیادی سرخ لکیر بنا ہوا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے سامنے امریکی شرائط واضح کر دی ہیں، اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت تاحال کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکی۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز سے ابھی مطمئن نہیں، تاہم مذاکرات جاری ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنی پالیسی کا موازنہ وینزویلا کے خلاف اپنائی گئی حکمت عملی سے کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اسی طرز پر ایران پر معاشی اور سیاسی دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ حالیہ پابندیوں اور دباؤ کے باعث ایران کو کئی معاملات میں “پیچھے ہٹنا” پڑا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی قیادت اس امید پر بیٹھی ہے کہ امریکا مڈٹرم انتخابات کی وجہ سے جنگ سے گریز کرے گا، مگر ان کے بقول وہ انتخابی سیاست کے بجائے امریکی مفادات اور خطے کی سکیورٹی کو ترجیح دیں گے۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے ٹرمپ نے دوٹوک انداز میں کہا کہ یہ عالمی بحری راستہ سب کے لیے کھلا رہے گا اور امریکا جہاز رانی کی آزادی ہر صورت یقینی بنائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ فوجی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران جنگ سے قبل جوہری ہتھیار بنانے کے بہت قریب پہنچ چکا تھا، تاہم امریکی کارروائیوں نے ایرانی جوہری پروگرام کو شدید نقصان پہنچایا۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ایران کے منجمد اثاثے اس وقت تک واپس نہیں کرے گا جب تک تہران کے رویے میں واضح تبدیلی نظر نہ آئے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ سفارت کاری اب بھی بہترین راستہ ہے اور حالیہ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم واشنگٹن کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکا کسی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا۔
ادھر امریکی حکام نے ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کی اس رپورٹ کو بھی مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان کی ثالثی میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان ابتدائی مفاہمتی خاکہ تیار ہو چکا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اس رپورٹ کو “من گھڑت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی سرکاری میڈیا کی خبروں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری غیر مستقیم مذاکرات ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں ایک طرف سفارتی کوششیں جاری ہیں تو دوسری جانب فوجی اور معاشی دباؤ میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔