وزیراعظم شہباز شریف نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدہ جلد طے پانے کی توقع ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس نے بھی مذاکرات میں پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال، ایران امریکا مذاکرات اور امن کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر کو یقین دلایا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی کشیدگی کے خاتمے اور امن کے فروغ کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔
دوسری جانب العربیہ اور الحدث کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاکستانی وزیراعظم کو قطر میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کی پیش رفت اور نتائج سے بھی آگاہ کیا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے باوجود تہران کو اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کے ذخائر سے دستبردار ہونا ہوگا۔ واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کو پابندیوں میں نرمی کے بدلے نہیں بلکہ عالمی تحفظات دور کرنے کے لیے یہ اقدام کرنا ہوگا۔
امریکی صدر کے مطابق افزودہ یورینیم کا معاملہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں ایک بنیادی سرخ لکیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اب تک ایران کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز سے مکمل طور پر مطمئن نہیں اور دونوں فریق کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ موجودہ حالات میں اس کے پاس زیادہ آپشنز موجود نہیں۔ ان کے بقول مسلسل امریکی دباؤ نے تہران کو کئی معاملات میں اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنے پر مجبور کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے بھی مذاکرات کے حوالے سے مثبت اشارے دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بات چیت تعمیری انداز میں جاری ہے اور صدر ٹرمپ نے مذاکرات کے لیے واضح حدود اور شرائط مقرر کر رکھی ہیں۔
اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے امید ظاہر کی تھی کہ ایران کسی بھی ممکنہ معاہدے کے تحت جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کی ضمانت دینے پر آمادہ ہو جائے گا۔ امریکی ٹی وی چینل این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ اس حوالے سے کافی پرامید ہیں، تاہم اصل چیلنج ایسا مؤثر نگرانی اور تصدیقی نظام تشکیل دینا ہے جو اس بات کو یقینی بنا سکے کہ ایران مستقبل میں معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔
واضح رہے کہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام، پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی بحالی اور خطے کی سیکیورٹی سمیت متعدد اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ تاہم کئی ہفتوں سے جاری بالواسطہ مذاکرات کے بعد دونوں فریق ایک ایسی مفاہمتی دستاویز کے قریب پہنچتے دکھائی دے رہے ہیں جو کشیدگی میں کمی اور حتمی معاہدے کے لیے مزید وقت فراہم کر سکتی ہے۔