جنگی تیاری یا وارننگ؟ بھارت کا ’آپریشن سندور 2.0‘ کا اشارہ

فہرستِ مضامین

بھارتی فوج کے سربراہ جنرل اوپیندر دویدی نے کہا ہے کہ اگر حالات نے تقاضا کیا تو بھارتی مسلح افواج ’’آپریشن سندور 2.0‘‘ شروع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، جبکہ مستقبل کی جنگوں کے پیش نظر تینوں افواج کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنرل اوپیندر دویدی نے پونے میں نیشنل ڈیفنس اکیڈمی کے 150ویں کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اس وقت جنگی صورتحال میں عارضی وقفہ ہے، تاہم بری، فضائی اور بحری افواج ہر ممکن چیلنج سے نمٹنے اور اگلے مرحلے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جدید جنگیں صرف زمین، فضا اور سمندر تک محدود نہیں رہیں بلکہ اب سائبر، خلائی اور معلوماتی میدان بھی جنگ کا اہم حصہ بن چکے ہیں، اسی لیے بھارتی افواج اپنی صلاحیتوں کو نئی ضروریات کے مطابق ڈھال رہی ہیں۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی اور معاشی ترقی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، جبکہ دفاعی شعبے میں خود انحصاری وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔

جنرل اوپیندر دویدی نے ’’آپریشن سندور‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی بلکہ فی الحال تعطل کا شکار ہے۔ ان کے بقول ضرورت پڑنے پر بھارتی فوج اور دیگر مسلح افواج ’’آپریشن سندور 2.0‘‘ کے لیے بھی تیار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج کا میدانِ جنگ انتہائی شفاف ہو چکا ہے جہاں مخالف فریق ایک دوسرے کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھ سکتے ہیں، اس لیے فوجی منصوبہ بندی، دستوں کی تعیناتی اور اہلکاروں کے تحفظ کے لیے غیر معمولی احتیاط کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ بھارت نے مئی 2025 میں ’’آپریشن سندور‘‘ کے نام سے ایک فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بارے میں بھارتی حکام کا دعویٰ تھا کہ اس کا ہدف پاکستان میں موجود دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانے تھے۔ یہ کارروائی مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد کی گئی تھی، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں