رہنما ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف این او سی کیسے دی گئی؟ قبضے کی جگہ کو قانونی جواز فراہم کیا گیا، 62 ایکڑ ہل پارک کی زمین ہے، اب قبضہ نہیں چلے گا۔
فاروق ستار نے کہا کہ کراچی کی ساری زمین کی لیز کے ایم سی کو دینی چاہیے، کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی بات پہلی بار نہیں ہو رہی، 1947 سے 1970 تک کراچی وفاق کے زیرِ نگرانی تھا، قبضہ مافیا کو اب کراچی والے معاف نہیں کریں گے۔
ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ قبضہ مافیا کو ایم کیو ایم چیلنج کرتی ہے، جماعت اسلامی اس جگہ کے حوالے سے کیوں خاموش ہے، جہاں جہاں قبضہ مافیا آپریٹ کر رہا ہے ہم آواز اٹھائیں گے۔
18 سال سے کراچی کو قبضہ مافیا کے حوالے کیا جا رہا ہے: رہنما ایم کیو ایم
انہوں نے کہا کہ اس بار بڑی تیاری کے ساتھ بلدیاتی انتخابات میں اتریں گے، 18 سال سے کراچی کو قبضہ مافیا کے حوالے کیا جا رہا ہے، پی ای سی ایچ سوسائٹی کی زمینوں پر قبضہ کیا جا رہا ہے، شہر کی پہاڑیاں کاٹ کر پلاٹ نکالے جا رہے ہیں اور مہنگے داموں فروخت کیے جا رہے ہیں۔
فاروق ستار نے کہا کہ کراچی جرائم پیشہ افراد کی آماجگاہ بنتا جا رہا ہے، لوگوں کو پہاڑ بیچ دیا گیا اور کہا گیا کہ پہاڑ بھی خود کاٹیں، میئر کراچی کی ذمہ داری ہے کہ وہ قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کریں، کے ایم سی کے افسران قبضہ مافیا کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، میں جب میئر تھا تو ہل پارک کی جگہ پر قبضہ ختم کرایا تھا۔