ٹرمپ کا سخت مؤقف: ایران اور اسرائیل فوری طور پر لڑائی روکیں

فہرستِ مضامین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اور ایران کو فوری طور پر جنگ بندی برقرار رکھنی چاہیے اور کسی بھی قسم کی مزید عسکری کارروائی سے گریز کرنا چاہیے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان دو ماہ قبل طے پانے والی جنگ بندی کے بعد پہلی مرتبہ دوبارہ میزائل اور فضائی حملوں کے تبادلے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر جاری پیغام میں ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اور ایران کو فوری طور پر فائرنگ روک دینی چاہیے اور موجودہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے بچانا چاہیے۔

ادھر پیر کے روز دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی ایک بار پھر شروع ہوئی، جس نے مشرق وسطیٰ میں ممکنہ امن عمل اور حالیہ جنگ بندی کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں کا آغاز امریکی صدر کی اس کوشش کے چند گھنٹے بعد ہوا جس میں انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو ایران کے خلاف فوری جوابی کارروائی سے روکنے کی کوشش کی تھی۔

صحافی باراک راوید کے مطابق ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ وہ نیتن یاہو سے رابطہ کرکے انہیں تحمل اختیار کرنے کا کہیں گے، تاہم بعد ازاں اسرائیل اور ایران دونوں جانب سے حملوں کے تبادلے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو اب مزید کارروائیوں سے گریز کرتے ہوئے مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہیے تاکہ ایک جامع معاہدے کی راہ ہموار ہو سکے۔

دوسری جانب تہران کی قیادت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں لبنان کی صورتحال کو بھی شامل کیا جانا چاہیے، جہاں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی بدستور جاری ہے۔

سفارتی سطح پر بھی کچھ پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران کا دورہ کیا اور ایرانی قیادت کو آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی پیغام پہنچایا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود سفارتی رابطوں کا سلسلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور مختلف ذرائع سے پیغامات کے تبادلے کا عمل جاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ حالات پیچیدہ ہیں، لیکن سفارت کاری کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے اور مختلف سطحوں پر مشاورت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں