واشنگٹن اور تل ابیب میں اختلافات گہرے، ایران نے نئی وارننگ جاری کر دی

فہرستِ مضامین

ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ بندی اگرچہ تاحال برقرار ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بدستور بلند سطح پر موجود ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کسی بھی وقت دوبارہ لڑائی بھڑک سکتی ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے ایران یا خطے میں اپنے حملے جاری رکھے تو جنگ بندی ٹوٹ سکتی ہے۔

8 اپریل سے نافذ جنگ بندی کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر براہِ راست حملے روک رکھے ہیں، لیکن حالات اب بھی انتہائی نازک سمجھے جا رہے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مسلسل جارحانہ کارروائیاں امن کے امکانات کو نقصان پہنچا رہی ہیں، خصوصاً لبنان میں جاری فوجی سرگرمیاں صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔

ٹرمپ کی نیتن یاہو کو تنبیہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو خبردار کیا ہے کہ مزید حملے جنگ بندی کو تباہ کر سکتے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا اور واضح کیا کہ اگر اسرائیل نے کشیدگی بڑھانے والی کارروائیاں جاری رکھیں تو اسے مستقبل میں تنہا بھی ہونا پڑ سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان جنگ بندی کے مستقبل اور ایران سے متعلق پالیسی پر اختلافات بھی سامنے آ رہے ہیں، جس سے سفارتی محاذ پر نئی پیچیدگیاں پیدا ہو گئی ہیں۔

ایران کا سخت مؤقف

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے بار بار جنگ بندی کی خلاف ورزیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ تل ابیب اعتماد سازی میں سنجیدہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ جنگ بندی انتہائی کمزور ہے اور اگر حالات نہ بدلے تو یہ کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے۔

ایران میں اہم صنعتی مرکز پر حملہ

اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پیر کے روز ایران کے جنوب مغربی علاقے میں واقع ماہشہر پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو نشانہ بنایا، جو ملک کے اہم صنعتی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم حکام مالی نقصانات اور تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے حملے ایران کی معیشت پر اضافی دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

لبنان اور ایران کو جوڑنے کی کوشش؟

امریکہ میں اسرائیل کے سفیر یخیئیل لیٹر نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری مذاکرات کا لبنان سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایران دونوں معاملات کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی سفیر نے کہا کہ حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیاں امریکی-ایرانی مذاکرات سے الگ معاملہ ہیں اور اگر لبنان ایران کے اثر و رسوخ سے الگ نہ ہوا تو اس کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

اسرائیلی حملوں کے پیچھے کیا پیغام تھا؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے تحمل کی اپیل کے باوجود اسرائیل کے ایران پر نئے حملوں کا مقصد واشنگٹن کو یہ پیغام دینا تھا کہ تہران کے ساتھ کوئی بھی بڑا معاہدہ اسرائیلی مفادات کو نظرانداز کرکے کامیاب نہیں ہو سکتا۔

فوجی مورخ ڈینی اورباخ کے مطابق اسرائیل نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ اگر اس کے سکیورٹی خدشات کو نظرانداز کیا گیا تو وہ کسی بھی سفارتی عمل کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکی پالیسی پر سوالات

امریکی تھنک ٹینک “انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی اسٹڈیز” کی ماہر فلس بینس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی اسرائیل کو دی جانے والی تنبیہ اس وقت زیادہ مؤثر سمجھی جائے گی جب اس کے ساتھ عملی اقدامات بھی کیے جائیں۔

ان کے مطابق جب تک امریکہ اسرائیل کو فوجی امداد، سفارتی حمایت اور اسلحے کی فراہمی جاری رکھے گا، تب تک نیتن یاہو کے لیے ایسی وارننگز کو سنجیدگی سے لینا مشکل ہوگا۔

لبنان میں حزب اللہ کی کارروائیاں

دوسری جانب حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پیر کے روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے خلاف 16 مختلف کارروائیاں انجام دیں۔ تنظیم کے مطابق حملوں میں فوجی گاڑیوں، فوجی اجتماع گاہوں اور دیگر عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

حزب اللہ کا کہنا ہے کہ کارروائیوں میں ڈرونز، گائیڈڈ میزائل، توپخانے اور جدید ہتھیار استعمال کیے گئے، جبکہ بعض حملے بیوفورٹ قلعے، العدیسہ اور یحمر الشقیف کے اطراف کیے گئے۔ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں اسرائیلی فوج کے گولہ بارود لے جانے والے ٹرکوں اور فوجی بلڈوزرز کو تباہ کیا گیا

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں