ٹرمپ کا بڑا اعلان: ایران کے ساتھ اہم معاہدہ 72 گھنٹوں میں متوقع

فہرستِ مضامین

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات تعطل کا شکار نہیں ہوئے اور دونوں فریق ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں آئندہ چند روز میں اہم پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔

واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں اور ممکنہ معاہدے کے حوالے سے اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری ہے اور فریقین ایک ایسے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں جو خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے جاری سفارتی کوششیں اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں اور اگر مذاکرات اسی رفتار سے آگے بڑھتے رہے تو آئندہ دو سے تین روز کے اندر ایک “بہت اچھا معاہدہ” طے پا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور طویل المدتی استحکام کے لیے سرگرم ہے، جبکہ ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا مقصد بھی ایک ایسا فریم ورک تشکیل دینا ہے جو مستقبل میں تنازعات کے امکانات کو کم کر سکے۔

ایران پر دباؤ برقرار

امریکی صدر نے واضح کیا کہ ممکنہ معاہدے کے باوجود ایران پر عائد امریکی پابندیوں میں فی الحال کوئی نرمی نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں اور ناکہ بندی مکمل طور پر برقرار ہیں اور واشنگٹن تہران پر دباؤ کی اپنی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے۔

ٹرمپ کے مطابق موجودہ پابندیوں کے نتیجے میں ایران کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پابندیوں کی وجہ سے ایران کی تیل برآمدات متاثر ہوئی ہیں اور ملک کی آمدنی کے بڑے ذرائع محدود ہو گئے ہیں۔

عالمی توجہ مذاکرات پر مرکوز

صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد عالمی سفارتی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی آئندہ چند روز میں کوئی معاہدہ سامنے آتا ہے تو یہ نہ صرف امریکہ اور ایران کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ہوگی بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، اسرائیل-ایران تنازع اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق حالیہ مہینوں میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور متعدد فوجی جھڑپوں کے بعد کسی بھی سفارتی پیش رفت کو انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم ابھی تک ایران کی جانب سے ٹرمپ کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

ممکنہ معاہدے سے کیا تبدیلی آ سکتی ہے؟

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کسی جامع معاہدے پر اتفاق ہو جاتا ہے تو اس سے خطے میں فوجی تناؤ کم ہونے، سفارتی روابط میں بہتری آنے اور اقتصادی معاملات میں نئی راہیں کھلنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ تاہم پابندیوں، جوہری پروگرام اور علاقائی سکیورٹی سے متعلق اختلافات اب بھی دونوں ممالک کے درمیان بڑے چیلنجز سمجھے جا رہے ہیں۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں