اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اس وقت شدید سیاسی دباؤ اور امریکہ کی تنقید کی زد میں ہیں، کیونکہ اسرائیلی افواج کی لبنان میں کارروائیاں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن فریم ورک کے برعکس جاری ہیں۔
رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے بظاہر احتیاط اختیار کرتے ہوئے CNN کی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت (MoU) پر کھل کر مخالفت نہیں کی، تاہم اسرائیل کی سیاسی اور عسکری صورتحال سے واضح ہے کہ ملک کے اندر غصہ اور تشویش دونوں بڑھ رہے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل تعلقات میں دراڑ
نیتن یاہو ماضی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات میں محتاط رہے ہیں، کیونکہ اگرچہ ٹرمپ کبھی کبھار اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں، مگر انہوں نے اسرائیل کو اپنے عسکری اہداف حاصل کرنے میں عملی طور پر حمایت بھی دی۔
تاہم ایران کے خلاف جنگ اور اس کے بعد امریکی موقف میں تبدیلی نے اسرائیل میں یہ تاثر کمزور کر دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان “خصوصی تعلق” موجود ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال دونوں اتحادیوں کے درمیان طاقت کے توازن کو بھی نمایاں کرتی ہے۔
معاہدے کی شرائط اور اسرائیلی ردعمل
امریکہ اور ایران کے معاہدے کے تحت نہ صرف ایران کے لیے 300 ارب ڈالر کے تعمیر نو منصوبے کی بات کی گئی ہے بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی “تمام محاذوں پر فوری اور مستقل فوجی کارروائیاں ختم کریں گے، جن میں لبنان بھی شامل ہے۔”
اس کے باوجود اسرائیل نے فوری طور پر لبنان پر شدید بمباری کی، جس میں لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق کم از کم 47 افراد ہلاک ہوئے۔ اسی دوران حزب اللہ کی جانب سے حملے میں چار اسرائیلی فوجی بھی مارے گئے، جس کے بعد اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیرِ قومی سلامتی ایتامار بن گویر نے کہا کہ “پورا لبنان جل جانا چاہیے۔”
سیاسی دباؤ اور عوامی رائے
ایک ٹی وی سروے کے مطابق زیادہ تر اسرائیلی عوام ایران کے خلاف جنگ کو کامیاب نہیں سمجھتے۔ ماہرِ رائے عامہ دالیا شینڈلن کے مطابق اسرائیلی عوام میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ حکومت کے دعوے پورے نہیں ہوئے۔
ان کے مطابق عوام امریکہ کو زیادہ تر اپنے مفادات کے تحت فیصلے کرنے والا سمجھتے ہیں، جبکہ بہت سے لوگ ناکامی کا ذمہ دار نیتن یاہو کی پالیسیوں کو قرار دیتے ہیں۔
امریکہ کا سخت مؤقف
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی کابینہ کے بعض ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں اسرائیل کا سب سے اہم اتحادی صرف امریکہ ہے، اور ایسے وقت میں اسی اتحادی کے خلاف کھڑے ہونا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ الفاظ امریکہ کی جانب سے اسرائیل پر غیر معمولی اور براہِ راست سیاسی دباؤ کی مثال ہیں۔
نیتن یاہو کے لیے مشکل صورتحال
ماہرین کے مطابق نیتن یاہو ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑے ہیں جہاں انہیں ایک طرف امریکہ کی حمایت درکار ہے اور دوسری طرف داخلی سیاست اور سخت گیر اسرائیلی حلقوں کا دباؤ۔
سیاسی تجزیہ کار یوسی میکلبرگ کے مطابق نیتن یاہو کھلی دراڑ سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن سیاسی طور پر وقت حاصل کرنے کے سوا ان کے پاس زیادہ آپشنز نہیں۔
اسی طرح اسرائیلی رکنِ پارلیمان اوفر کاسف نے کہا کہ حکومت اصل میں معاہدے کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ اسے سیکیورٹی کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق اس پورے بحران کا اصل مقصد سیاسی فائدہ حاصل کرنا اور معاہدے کو غیر مؤثر بنانا ہے۔