تحریر: اِشفاق احمد
سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام پر دونوں ممالک نے آئندہ 60 روز کے اندر ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے مشترکہ روڈ میپ پر اتفاق کر لیا ہے۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ لبنان کی صورتحال اور جوہری پروگرام سے متعلق کئی اہم تنازعات اب بھی حل طلب ہیں، جو کسی مستقل معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
قطر اور پاکستان، جنہوں نے مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کیا، نے مشترکہ بیان میں کہا کہ پہلے روز کی بات چیت میں “حوصلہ افزا پیش رفت” ہوئی ہے۔ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ تکنیکی اور سفارتی مذاکرات کا سلسلہ آئندہ دو ماہ تک جاری رکھا جائے گا تاکہ حتمی معاہدے کی تفصیلات طے کی جا سکیں۔
یہ پیش رفت 17 جون کو دستخط کیے گئے 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (MoU) کے بعد سامنے آئی ہے، جس نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک بنیادی فریم ورک فراہم کیا تھا۔ اس معاہدے کے بعد جھیل لوسرن کے کنارے تقریباً 12 گھنٹے طویل مذاکراتی نشست منعقد ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
اعلیٰ سطحی کمیٹی اور خصوصی ورکنگ گروپس کا قیام
مشترکہ اعلامیے کے مطابق مذاکراتی عمل کی نگرانی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو سیاسی رہنمائی فراہم کرے گی۔ کمیٹی کے تحت جوہری پروگرام، پابندیوں کے خاتمے، نگرانی کے نظام اور تنازعات کے حل کے لیے مختلف ورکنگ گروپس بھی قائم کیے جائیں گے۔
مذاکرات کار باقاعدگی سے اس کمیٹی کو اپنی پیش رفت سے آگاہ کریں گے جبکہ تکنیکی ٹیمیں معاہدے پر عملدرآمد کے طریقہ کار کو حتمی شکل دیں گی۔
بین الاقوامی امور کے ماہر تھامس وارک کے مطابق اصل امتحان اب شروع ہوگا، کیونکہ سیاسی اتفاق رائے حاصل کرنا نسبتاً آسان تھا جبکہ تکنیکی معاملات کہیں زیادہ پیچیدہ اور وقت طلب ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کے بقول 60 روزہ مدت میں تمام اختلافات کا حل نکلنا آسان دکھائی نہیں دیتا۔
جوہری پروگرام پر اختلافات برقرار
ماہرین کے مطابق کئی بنیادی سوالات اب بھی جواب طلب ہیں۔ ان میں یہ فیصلہ شامل ہے کہ آیا ایران کو یورینیم افزودگی جاری رکھنے کی اجازت ہوگی یا نہیں، اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کے ذخائر کا مستقبل کیا ہوگا، بین الاقوامی معائنہ کاروں کو کتنی رسائی دی جائے گی اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی کب اور کس حد تک کی جائے گی۔
تھامس وارک کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا تنازع ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو کم یا ختم کرنے کے طریقہ کار پر ہے۔ ان کے مطابق امریکہ چاہتا ہے کہ اس عمل میں امریکی ماہرین بھی شامل ہوں، لیکن ایران کے لیے اپنے حساس جوہری مراکز میں غیر ملکی عملے کو رسائی دینا قابل قبول نہیں ہوگا۔
آبنائے ہرمز کے لیے رابطہ لائن قائم
معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے اور تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے ایک خصوصی رابطہ نظام بھی قائم کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد غلط فہمیوں اور ممکنہ فوجی تصادم سے بچنا ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل و گیس تجارت اسی آبی گزرگاہ سے ہوتی ہے اور حالیہ کشیدگی کے باعث جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر دباؤ نے عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی تھی جس کے اثرات مختلف معیشتوں پر پڑے۔
لبنان کے لیے “ڈی کنفلکشن سیل” کا قیام
مذاکرات کی ایک اہم پیش رفت لبنان کے حوالے سے سامنے آئی، جہاں جنگ بندی پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ایک خصوصی “ڈی کنفلکشن سیل” قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لبنان میں جنگ کے خاتمے کی جانب نمایاں پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اصل امتحان اس نئے نظام کی مؤثریت ہوگی۔
تاہم صورتحال پیچیدہ دکھائی دیتی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں قائم اپنے سکیورٹی زون کو برقرار رکھے گا۔ دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے جنوبی لبنان میں اپنی موجودگی برقرار رکھی تو اسے سن 2000 کی طرح دوبارہ پسپائی اختیار کرنا پڑ سکتی ہے۔
اسرائیلی مبصرین اس معاہدے کو اپنے لیے ایک سفارتی چیلنج قرار دے رہے ہیں کیونکہ ماضی میں لبنان سے متعلق جنگ بندی کے معاملات براہ راست امریکہ اور اسرائیل کے درمیان طے ہوتے رہے ہیں، جبکہ اب ایران بھی اس عمل کا اہم حصہ بن چکا ہے۔
لبنان میں معاہدے پر شکوک و شبہات
کئی ماہرین نے اس نئے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ سابق امریکی سفارت کار جوئی ہڈ کے مطابق حیران کن بات یہ ہے کہ لبنان اور اسرائیل کی حکومتیں براہ راست مذاکرات کا حصہ نہیں تھیں، حالانکہ انہیں ہی کسی ممکنہ جنگ بندی پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔
ان کے مطابق اس طریقہ کار سے ایران کو لبنان کے معاملات پر غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے، جس سے خطے میں طاقت کے توازن پر نئے سوالات جنم لیں گے۔
سابق امریکی جنرل اور سفارتی اہلکار مارک کمِٹ کا کہنا ہے کہ لبنان کے مسئلے کو امریکہ۔ایران مذاکرات کا حصہ بنانا پورے عمل کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے کیونکہ بیرونی طاقتوں کے لیے دو ممالک کے درمیان اندرونی تنازع کو حل کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔
پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی واپسی
عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ مذاکرات کے نتیجے میں ایران کو اہم اقتصادی رعایتیں حاصل ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے، کچھ منجمد اثاثے آزاد کر دیے گئے ہیں اور ایران کی تعمیرِ نو اور ترقی کے لیے ایک بڑے منصوبے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔
تاہم امریکی حکومت نے ابھی تک ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پابندیوں میں مکمل نرمی واشنگٹن کے لیے ایک سیاسی امتحان بن سکتی ہے کیونکہ امریکی کانگریس کے کئی ارکان پہلے ہی اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سوئٹزرلینڈ مذاکرات نے ایک نئی سفارتی راہ ہموار کی ہے، لیکن لبنان، جوہری پروگرام، پابندیوں اور علاقائی سلامتی جیسے پیچیدہ معاملات اب بھی حتمی معاہدے کے راستے میں سب سے بڑی آزمائش ثابت ہو سکتے ہیں۔