نواسۂ رسول حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانی کی یاد میں ملک بھر میں یومِ عاشور مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر مختلف شہروں میں شبیہ علم، تابوت اور ذوالجناح کے روایتی جلوس برآمد کیے جا رہے ہیں، جبکہ امام بارگاہوں اور مساجد میں مجالسِ عزا کا انعقاد بھی جاری ہے۔
واقعۂ کربلا کو چودہ سو برس سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود حضرت امام حسینؓ اور ان کے جانثار ساتھیوں کی لازوال قربانی آج بھی امتِ مسلمہ کے لیے صبر، استقامت، حق گوئی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کی روشن مثال سمجھی جاتی ہے۔ اسی نسبت سے ملک بھر میں عزادار مجالس اور جلوسوں کے ذریعے شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔
عاشورہ کے موقع پر مختلف علاقوں میں سبیلیں لگائی گئی ہیں جہاں عزاداروں اور شہریوں کو ٹھنڈا پانی، شربت اور دیگر مشروبات فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ حضرت امام حسینؓ اور ان کے رفقا کی تین روزہ پیاس اور بھوک کی یاد میں نیاز بھی تقسیم کی جا رہی ہے۔
کراچی میں مرکزی جلوس نشتر پارک میں مجلسِ عزا کے اختتام کے بعد اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا مقررہ مقام تک پہنچے گا۔ جلوس کے راستوں پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے متبادل راستوں کا بھی تعین کیا گیا ہے۔
لاہور میں مرکزی جلوس اندرون موچی گیٹ کی تاریخی نثار حویلی سے برآمد ہوا، جو اپنے روایتی راستوں سے گزرتا ہوا کربلا گامے شاہ کی جانب روانہ ہے۔ جلوس میں ہزاروں کی تعداد میں مرد، خواتین اور بچے شریک ہیں، جو ماتم، نوحہ خوانی اور ذکرِ شہدائے کربلا میں مصروف ہیں۔
اسی طرح ملتان، پشاور، کوئٹہ، اسلام آباد، راولپنڈی، گلگت، اسکردو، مظفرآباد سمیت ملک کے دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں بھی عاشورہ کے جلوس اور مجالس جاری ہیں، جہاں عزادار حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔
یومِ عاشور کے موقع پر ملک بھر میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ رکھا گیا ہے۔ حساس مقامات پر پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات ہیں، جبکہ جلوسوں کی فضائی نگرانی، سی سی ٹی وی کیمروں اور واک تھرو گیٹس کے ذریعے بھی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ کئی شہروں میں ٹریفک پلان نافذ ہے اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔