“کراچی جیسے انتخابات سے بہتر ہے الیکشن نہ ہوں”، سعد رفیق کا بیان

فہرستِ مضامین

مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے مطالبے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلدیاتی نظام ضرور ہونا چاہیے، تاہم کراچی کے طرز کا نظام دیگر شہروں میں نافذ نہیں کیا جانا چاہیے۔

اپنے بیان میں سعد رفیق نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کی یہ بات درست ہے کہ لاہور اور اسلام آباد سمیت ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں، لیکن اگر انتخابات کراچی میں ہونے والے گزشتہ بلدیاتی انتخابات جیسے انداز میں کرانے ہیں تو ایسے انتخابات سے بہتر ہے کہ انہیں نہ ہی کرایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ لاہور میں کراچی جیسا بلدیاتی ماڈل نافذ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ ان کے بقول اگر کسی کو کراچی کے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے مزید معلومات درکار ہوں تو وہ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان یا ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی سے رابطہ کر سکتا ہے، کیونکہ وہ اس معاملے پر زیادہ بہتر روشنی ڈال سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ جن صوبوں میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے وہاں بلدیاتی ادارے فعال ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) بلدیاتی انتخابات سے گریز کر رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر کراچی کا بلدیاتی نظام قابل اعتراض سمجھا جاتا ہے تو اسلام آباد اور لاہور میں ایسا بااختیار نظام متعارف کرایا جائے جس پر دیگر شہروں کو بھی رشک آئے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ وفاقی دارالحکومت میں بھی مؤثر بلدیاتی نظام موجود نہیں، حالانکہ حکومت آئین اور جمہوری اصلاحات کی بات کرتی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ پورے ملک میں آئینی تقاضوں کے مطابق بلدیاتی انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں نئی حکومت قائم ہو چکی ہے اور وہاں بھی 90 روز کے اندر بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں گے۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں