سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف، پانی کے حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا

فہرستِ مضامین

اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے کے موضوع پر منعقدہ ایک اہم سیمینار میں پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ ملک اپنے آبی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور معاہدے کو یکطرفہ طور پر محدود یا معطل کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

جناح کنونشن سینٹر میں ہونے والے سیمینار “سندھ طاس معاہدہ، امن اور علاقائی استحکام کا اہم ذریعہ” میں وفاقی وزرا، سیاسی شخصیات، ملکی و غیر ملکی ماہرین اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ مقررین نے معاہدے کی اہمیت، آبی وسائل کے تحفظ، علاقائی امن اور بھارت کی جانب سے معاہدے سے متعلق مؤقف پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔

افتتاحی خطاب میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ یہ صرف ایک معاہدے کا معاملہ نہیں بلکہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی اور مستقبل سے جڑا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ اور اس سے وابستہ تہذیب پاکستان کی شناخت کا اہم حصہ ہیں، جبکہ پانی ملک کے لیے صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ بقا کا بنیادی تقاضا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دریائے سندھ صدیوں سے خطے کی قدیم تہذیبوں کو زندگی فراہم کرتا آیا ہے اور سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم بین الاقوامی معاہدہ ہے، جس کا احترام ضروری ہے۔

وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی مصدق ملک نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اپنے حصے کے پانی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور اس معاملے پر کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کو سیاسی دباؤ یا ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا اور اگر سندھ طاس معاہدے کو نظرانداز کیا گیا تو بین الاقوامی معاہدوں کی ساکھ بھی متاثر ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ آبی وسائل میں رکاوٹ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے مسائل پیدا کر سکتی ہے، اس لیے معاہدے پر مکمل عملدرآمد ناگزیر ہے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انڈس واٹر ٹریٹی کے کمشنر سید مہر علی شاہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ صرف ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ پاکستان کی زراعت، غذائی تحفظ اور معیشت سے براہِ راست وابستہ ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان آبی تنازعات کو پرامن انداز میں حل کرنے کا مؤثر نظام فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ معاہدے میں 12 بنیادی شقیں شامل ہیں، جن کے تحت دونوں ممالک پر دریاؤں کے بہاؤ سے متعلق معلومات کا تبادلہ لازمی ہے۔ اگر کسی معاملے پر اختلاف پیدا ہو تو اس کے حل کے لیے ثالثی کا واضح طریقہ کار بھی معاہدے کا حصہ ہے۔

مہر علی شاہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بین الاقوامی ثالثی عدالت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر نہ معطل کر سکتا ہے اور نہ ہی ختم کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ گزشتہ برس اس وقت دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بنا تھا جب مقبوضہ کشمیر میں ایک حملے کے بعد بھارت نے پاکستان پر الزامات عائد کرتے ہوئے معاہدہ معطل کرنے اور پاکستان کا پانی روکنے سے متعلق بیانات دیے تھے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں