پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی نجکاری کا عمل باضابطہ طور پر مکمل ہو گیا ہے، جس کے بعد قومی فضائی کمپنی کا انتظام اور ملکیت نئی انتظامیہ کے سپرد کر دی گئی ہے۔
پی آئی اے کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق عارف حبیب کنسورشیم کے ذیلی ادارے پی آئی اے ایکویٹی لمیٹڈ نے 29 جون 2026 سے قومی ایئرلائن کا انتظام سنبھال لیا ہے۔ معاہدے کے تحت کمپنی نے 180 ارب روپے میں پی آئی اے کی ملکیت حاصل کی۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ اس معاہدے کے تحت 55 ارب روپے حکومت پاکستان کو ادا کیے جائیں گے، جبکہ 125 ارب روپے براہِ راست پی آئی اے کی بہتری، توسیع اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے سرمایہ کاری کی صورت میں استعمال ہوں گے۔
نئی انتظامیہ کے مطابق یہ سرمایہ آپریشنل اصلاحات، فضائی بیڑے کی توسیع اور جدید طیاروں کی شمولیت، نئے اندرون و بیرون ملک روٹس کے آغاز، ڈیجیٹل نظام کی بہتری اور مسافروں کو بین الاقوامی معیار کی سہولیات فراہم کرنے پر خرچ کیا جائے گا تاکہ پی آئی اے کو دوبارہ ایک مستحکم، جدید اور منافع بخش ایئرلائن بنایا جا سکے۔
دوسری جانب نجکاری کمیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ 29 جنوری 2026 کو ہونے والے شیئر خریداری معاہدے کی تمام شرائط غیر معمولی کم مدت میں مکمل کی گئیں، جبکہ اس دوران قومی ایئرلائن کی پروازوں اور مسافروں کی سہولت میں کسی قسم کا خلل نہیں آنے دیا گیا۔
نجکاری کمیشن کے مطابق خریدار کنسورشیم اب تک حکومت پاکستان کو 10 ارب روپے ادا کر چکا ہے، جبکہ پی آئی اے میں 80 ارب روپے کی نئی سرمایہ کاری بھی کی جا چکی ہے۔ اس سرمایہ کاری کا مقصد ادارے کی مالی بنیاد کو مضبوط بنانا، فضائی بیڑے کو جدید بنانا، آپریشنل استعداد میں اضافہ کرنا اور صارفین کو بہتر خدمات فراہم کرنا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ آئندہ ایک سال کے دوران دوسری فنانشل کلوزنگ تک کنسورشیم مزید 45 ارب روپے پی آئی اے میں سرمایہ کاری کرے گا، جبکہ اگر وہ بقیہ 25 فیصد حصص خریدتا ہے تو حکومت پاکستان کو مزید 45 ارب روپے ادا کیے جائیں گے۔ کنسورشیم پہلے ہی باقی ماندہ حصص خریدنے کی تحریری خواہش ظاہر کر چکا ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے اس پیش رفت کو پاکستان کے لیے ایک اہم معاشی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نجکاری شفاف، منصفانہ، مسابقتی اور پیشہ ورانہ انداز میں مکمل کی گئی، جو ملک میں معاشی اصلاحات، مالی نظم و ضبط اور نجی شعبے کے کردار کو فروغ دینے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے مطابق اس عمل سے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔
پی آئی اے ایکویٹی لمیٹڈ کے چیئرمین نے ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد اپنے پیغام میں کہا کہ قومی ایئرلائن کے لیے آج ایک نئے دور کا آغاز ہے، تاہم عوام کا اعتماد صرف ملکیت کی منتقلی سے حاصل نہیں ہوگا بلکہ بہتر کارکردگی، معیاری سروس اور ہر پرواز میں بہترین تجربہ فراہم کرکے ہی اسے دوبارہ جیتا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگرچہ پی آئی اے کی ملکیت تبدیل ہو چکی ہے، لیکن پاکستان اور اس کے عوام کی خدمت کا جذبہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط رہے گا، اور نئی انتظامیہ ادارے کو عالمی معیار کی کامیاب ایئرلائن بنانے کے لیے بھرپور کوشش کرے گی۔