امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ چاہتا ہے جس میں مستقل، قابلِ تصدیق اور سخت بین الاقوامی نگرانی کے تحت اس بات کی ضمانت دی جائے کہ تہران اپنا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم کرے۔
ایک انٹرویو کے دوران جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ مستقبل میں ایران کے ساتھ ہونے والا کوئی بھی معاہدہ صرف اسی صورت قابلِ قبول ہوگا جب اس میں مؤثر معائنہ اور تصدیقی نظام شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا ایسی مضبوط یقین دہانیاں چاہتا ہے جن سے یہ ثابت ہو سکے کہ ایران کسی بھی شکل میں جوہری پروگرام کو دوبارہ فعال نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ایران کے اندر موجود جوہری سرگرمیوں کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے، جس کے لیے بین الاقوامی سطح پر سخت نگرانی اور مسلسل معائنے ناگزیر ہیں۔
یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں۔ اسی تناظر میں امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر و داماد جیرڈ کشنر دوحہ پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق قطری ثالثوں سے مشاورت کریں گے۔
اگرچہ صدر ٹرمپ نے قطر میں اہم ملاقاتوں کا اعلان کیا تھا، تاہم قطری وزارتِ خارجہ نے وضاحت کی ہے کہ امریکی وفد کی ملاقاتیں قطری ثالثوں اور ممکنہ طور پر پاکستانی ثالثوں سے الگ الگ ہوں گی، جبکہ تاحال امریکی اور ایرانی اعلیٰ سطحی وفود کے درمیان کسی براہِ راست ملاقات کا شیڈول طے نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کا فنی وفد صرف عبوری معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے دوحہ میں موجود ہے اور اس کا امریکی وفد کے دورے سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ کسی بھی نئے جوہری معاہدے کی کامیابی کا انحصار مضبوط تصدیقی نظام اور سخت بین الاقوامی معائنوں پر ہوگا، کیونکہ واشنگٹن کے مطابق مؤثر ضمانتوں کے بغیر مستقبل میں ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے سے روکنا ممکن نہیں ہوگا۔