افغانستان میں طالبان حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فورسز نے پاکستان کی حدود میں فضائی کارروائیاں کی ہیں، جبکہ پاکستان نے کہا ہے کہ اس کی سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے جنوبی علاقے میں داخل ہونے والے چار ابتدائی نوعیت کے ڈرونز کو بروقت نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔
منگل کو پیش آنے والے یہ واقعات دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نیا مرحلہ سمجھے جا رہے ہیں، جہاں سرحدی سلامتی کے معاملے پر اختلافات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں۔
طالبان حکومت کی وزارتِ دفاع کے مطابق افغان فورسز نے بلوچستان کے سرحدی علاقے سارانان میں داعش کے مبینہ ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔ وزارت کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے بعض دیگر مقامات پر بھی کارروائیاں کی گئیں، تاہم ان حملوں کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب پاکستانی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ چار مشتبہ ڈرونز کی بروقت نشاندہی کے بعد انہیں فضاء ہی میں تباہ کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق ان میں سے ایک ڈرون بلوچستان کے علاقے سارانان میں ایک سرکاری اسکول کے قریب دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے۔
دفاعی تجزیوں کے مطابق افغانستان کے پاس روایتی جنگی طیاروں کی صلاحیت محدود ہے، تاہم اس کے بیڑے میں چند طیارے اور متعدد ہیلی کاپٹر موجود ہیں۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ طالبان کے پاس ڈرون ٹیکنالوجی موجود ہے، جسے وہ ماضی میں بھی سرحدی تنازعات کے دوران استعمال کر چکے ہیں۔
پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین ایسے مسلح گروہوں کے زیرِ استعمال ہے جو پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ اس کے برعکس طالبان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ پاکستان میں بدامنی اور عسکریت پسندی اس کا اندرونی معاملہ ہے۔
اس سے ایک روز قبل پاکستان کی جانب سے سرحدی علاقوں میں کی جانے والی فضائی کارروائیوں میں کم از کم 28 شہریوں کے جاں بحق اور 49 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ اسلام آباد نے ان حملوں کو اپنی سرزمین پر ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کا جواب قرار دیا تھا۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں سینکڑوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ چین کی ثالثی میں تعلقات بہتر بنانے اور کشیدگی کم کرنے کی متعدد کوششیں کی گئیں، تاہم اب تک ان سے کوئی نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔