امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کی پیدائشی شہریت ختم کرنے کی کوشش مسترد کر دی

فہرستِ مضامین

اِشفاق احمد

امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس کوشش کو بڑا دھچکا دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے جس کے تحت وہ امریکہ میں پیدا ہونے والے بعض بچوں کو خودکار امریکی شہریت سے محروم کرنا چاہتے تھے۔ عدالت نے 6 کے مقابلے میں 3 ججوں کی اکثریت سے فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ میں پیدائش کے ذریعے شہریت کا حق آئین کے تحت محفوظ ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ 4 جولائی کو اپنی آزادی کی 250ویں سالگرہ منانے کی تیاری کر رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں 1868 کی آئین کی چودھویں ترمیم (14th Amendment) کی دوبارہ توثیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں پیدا ہونے والا ہر شخص، جو امریکی قوانین کے دائرۂ اختیار میں ہو، امریکی شہری شمار ہوگا۔

ٹرمپ کیا چاہتے تھے؟

صدر ٹرمپ نے جنوری 2025 میں اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد ایک صدارتی حکم نامہ جاری کیا تھا، جس کے مطابق اگر بچے کے والدین میں سے ایک یا دونوں امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم ہوں یا صرف عارضی ویزا (جیسے سیاحتی، تعلیمی یا ورک ویزا) پر موجود ہوں، تو ایسے بچے کو پیدائش کے ساتھ امریکی شہریت نہ دی جائے۔

ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ موجودہ قانون کی وجہ سے غیر قانونی تارکین وطن امریکی شہریت اور سرکاری سہولیات سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان کے وکلا نے عدالت میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ آئین کی 14ویں ترمیم کی گزشتہ کئی دہائیوں سے غلط تشریح کی جاتی رہی ہے۔

سپریم کورٹ نے کیا کہا؟

فیصلہ تحریر کرتے ہوئے چیف جسٹس جان رابرٹس نے کہا کہ آئین کی چودھویں ترمیم نے اس سرزمین پر پیدا ہونے والے ہر آزاد انسان کو شہریت کی ضمانت دی تھی، اور عدالت آج بھی اسی وعدے کو برقرار رکھ رہی ہے۔

عدالت نے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ صرف مستقل رہائش رکھنے والے والدین کے بچوں کو ہی پیدائشی شہریت دی جا سکتی ہے۔

ٹرمپ کا ردِعمل

سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اسے “ملک کے لیے افسوسناک فیصلہ” قرار دیا اور کہا کہ وہ اس معاملے پر دیگر قانونی اور سیاسی راستے اختیار کریں گے۔

انہوں نے کانگریس میں موجود اپنی جماعت کے ارکان سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ایسا قانون لائیں جس کے ذریعے پیدائشی شہریت کے حق کو محدود کیا جا سکے۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ایسے کسی بھی اقدام کی مکمل حمایت حاصل ہوگی۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے نائب چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے بھی فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکی شہریت پوری دنیا کا پیدائشی حق نہیں بلکہ صرف امریکیوں کا حق ہے۔

کیا ٹرمپ دوبارہ کوشش کر سکتے ہیں؟

آئینی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد صرف عام قانون سازی کے ذریعے پیدائشی شہریت ختم کرنا تقریباً ناممکن ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حق کو تبدیل کرنے کے لیے امریکی آئین میں ترمیم کرنا ہوگی، جس کے لیے کانگریس میں دو تہائی اکثریت اور ریاستوں کی منظوری درکار ہوتی ہے، جبکہ موجودہ سیاسی حالات میں ایسا ہونا انتہائی مشکل سمجھا جا رہا ہے۔

فیصلے سے کس کو فائدہ ہوگا؟

تحقیقی اداروں کے مطابق اگر ٹرمپ کا حکم نافذ ہو جاتا تو ہر سال تقریباً 2 لاکھ 55 ہزار بچے امریکی شہریت سے محروم رہتے اور 2045 تک غیر دستاویزی افراد کی تعداد میں 27 لاکھ کا اضافہ ہو سکتا تھا۔

ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے سب سے زیادہ فائدہ غیر دستاویزی تارکین وطن کے امریکہ میں پیدا ہونے والے بچوں کو ہوگا، جبکہ امریکی معیشت بھی اس سے مستفید ہوگی کیونکہ پیدائشی شہریت رکھنے والے افراد آئندہ دہائیوں میں کھربوں ڈالر کی معاشی سرگرمیوں میں حصہ ڈالیں گے۔

فیصلے کی اہمیت

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے واضح کر دیا ہے کہ امریکی شہریت کی بنیاد صدارتی احکامات نہیں بلکہ آئین ہے۔

یہ فیصلہ نہ صرف امریکی آئینی نظام کی مضبوطی کی علامت سمجھا جا رہا ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ صدر کے اختیارات کی آئینی حدود موجود ہیں اور انہیں یکطرفہ طور پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

رائے عامہ کے حالیہ سروے کے مطابق امریکہ کے 56 فیصد شہری ٹرمپ کی پیدائشی شہریت ختم کرنے کی پالیسی کے مخالف تھے، جبکہ 43 فیصد افراد اس کی حمایت کرتے تھے۔

دیگر ممالک میں بھی یہی قانون؟

ماہرین کے مطابق امریکہ کے علاوہ کینیڈا، میکسیکو، برازیل، ارجنٹینا سمیت کم از کم 30 ممالک میں بھی پیدائش کی بنیاد پر شہریت دینے کا نظام موجود ہے، تاہم بعض ممالک جیسے چلی اور کولمبیا میں عارضی طور پر آنے والے غیر ملکیوں کے بچوں پر یہ حق مکمل طور پر لاگو نہیں ہوتا۔

مزید خبریں

مقبول ترین خبریں