ورلڈ بینک نے پاکستان کو قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت وسائل کی تقسیم کے موجودہ نظام پر نظرثانی کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبوں میں فنڈز صرف آبادی کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے بجائے ان کی مالی ضروریات اور آمدنی پیدا کرنے کی صلاحیت کو بھی مدنظر رکھا جائے۔
ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاقی محصولات کا 57.5 فیصد حصہ صوبوں کو منتقل کیا جا رہا ہے، تاہم ان وسائل کا بڑا حصہ تنخواہوں، پنشن اور انتظامی اخراجات پر خرچ ہو جاتا ہے، جبکہ عوامی فلاح، بنیادی سہولیات اور غربت میں کمی کے حوالے سے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آ سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد بھی وفاق کئی ایسے شعبوں میں کردار ادا کر رہا ہے جو صوبائی دائرہ اختیار میں آتے ہیں، جس کے باعث وسائل کے مؤثر استعمال میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے اور جوابدہی کا نظام بھی متاثر ہو رہا ہے۔
ورلڈ بینک نے اپنی سفارشات میں اس بات پر بھی زور دیا کہ بلدیاتی حکومتوں کو نہ صرف واضح انتظامی اختیارات دیے جائیں بلکہ انہیں مؤثر انداز میں کام کرنے کے لیے مناسب مالی وسائل بھی فراہم کیے جائیں تاکہ مقامی سطح پر عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنائی جا سکے۔