چین نے ایک نیا “قومی یا نسلی یکجہتی قانون” نافذ کر دیا ہے جس کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور بعض عالمی حکام کا کہنا ہے کہ اس سے ملک میں رہنے والی نسلی اقلیتوں پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے اور ان کی الگ شناخت متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم چینی حکومت نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کا مقصد صرف قومی اتحاد اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔
چین میں سرکاری طور پر 56 نسلی گروہوں کو تسلیم کیا جاتا ہے، جن میں اکثریت ہان چینیوں کی ہے جبکہ 55 دیگر اقلیتی قومیتیں بھی شامل ہیں۔ یہ اقلیتیں مجموعی آبادی کا تقریباً 9 فیصد حصہ بنتی ہیں، جن میں ایغور، تبتی اور منگول باشندے نمایاں ہیں۔
مارچ میں منظور کیے گئے اس قانون کا نفاذ یکم جولائی سے شروع ہو چکا ہے۔ چینی حکام کے مطابق اس کا مقصد تمام نسلی گروہوں کے درمیان ایک مشترکہ قومی شناخت پیدا کرنا اور قومی اتحاد کو مضبوط بنانا ہے۔
قانون میں کیا شامل ہے؟
نئے قانون کے تحت تمام سرکاری اداروں، تعلیمی اداروں، نجی کمپنیوں اور سماجی تنظیموں کو قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔ قانون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہر شہری اور ادارہ “چینی قوم” کے مشترکہ تصور کو مضبوط بنانے میں اپنا حصہ ڈالے۔
قانون کی ایک اہم شق کے مطابق مینڈارن زبان (چینی قومی زبان) کو پری اسکول سے لے کر ہائی اسکول تک لازمی طور پر پڑھایا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اقلیتی زبانوں کا کردار مزید محدود ہو جائے گا۔
ماضی میں بعض علاقوں میں اقلیتوں کو اپنی زبان میں تعلیم دینے کی نسبتاً زیادہ آزادی حاصل تھی، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ نئے قانون کے بعد مینڈارن زبان کو پورے ملک میں بنیادی حیثیت دے دی گئی ہے۔
تنقید کیوں کی جا رہی ہے؟
انسانی حقوق کی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ چین پہلے ہی ایغور مسلمانوں اور تبتی باشندوں کے ساتھ اپنے رویے پر عالمی تنقید کا سامنا کرتا رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے 2018 میں کہا تھا کہ لاکھوں ایغور مسلمانوں کو ایسے مراکز میں رکھا گیا جہاں انہیں دوبارہ تعلیم اور تربیت دی جاتی تھی، جبکہ چین ان مراکز کو فنی تربیت کے ادارے قرار دیتا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت کئی تنظیموں کا کہنا ہے کہ نیا قانون نسلی اور ثقافتی تنوع کو فروغ دینے کے بجائے مختلف قومیتوں کو ایک ہی قومی شناخت میں ضم کرنے کی کوشش ہے۔
تنظیموں کے مطابق اس قانون سے ایغور، تبتی اور منگول اقلیتوں کی زبان، ثقافت اور روایات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اقلیتی زبانوں کے فروغ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی یا ثقافتی شناخت کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانے والے افراد کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کیا قانون چین سے باہر بھی لاگو ہوگا؟
اس قانون کی سب سے متنازع شق وہ ہے جس کے تحت چین سے باہر موجود ایسے افراد یا گروہوں کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے جو چینی حکومت کے مطابق “نسلی علیحدگی پسندی” یا قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے کی سرگرمیوں میں ملوث ہوں۔
اس شق پر تائیوان اور جلاوطن تبتی قیادت نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چین اس قانون کو بیرون ملک اپنے ناقدین یا آزادی کی حمایت کرنے والوں کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔
تائیوانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی ملک کا ایسا شخص جس کے بیانات یا اقدامات بیجنگ کو ناگوار گزریں، وہ اس قانون کی زد میں آ سکتا ہے۔
چین کا مؤقف کیا ہے؟
چینی حکومت نے تمام تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کا مقصد اقلیتوں کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ قومی اتحاد کو مضبوط بنانا اور سماجی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
چین کے نائب وزیر انصاف ہو ویلیے کے مطابق بعض مغربی میڈیا اداروں نے قانون کی غلط تشریح کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح چین کو بھی اپنی قومی سلامتی، خودمختاری اور سماجی استحکام کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔
چینی حکام کا کہنا ہے کہ بیرون ملک سے متعلق شق صرف غیرقانونی سرگرمیوں اور علیحدگی پسند تحریکوں کی روک تھام کے لیے شامل کی گئی ہے اور اس کا عام شہریوں، تعلیمی تبادلوں، کاروباری تعلقات یا بین الاقوامی تعاون پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بعض مبصرین اب بھی خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ قانون چین میں نسلی اقلیتوں کی شناخت، زبان اور ثقافت کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔