بلوچستان کے ضلع شیرانی میں جمعہ کی صبح ایک ہولناک ٹریفک حادثے میں کم از کم 40 افراد جاں بحق جبکہ 8 زخمی ہو گئے۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس پہاڑی علاقے دہانہ سر میں بے قابو ہو کر تقریباً 70 فٹ گہری کھائی میں جا گری۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق حادثہ کوئٹہ سے تقریباً 400 کلومیٹر دور پیش آیا۔ ڈپٹی کمشنر شیرانی حضرت علی کاکڑ نے بتایا کہ امدادی کارروائیوں کے دوران زخمیوں کو فوری طور پر نکال کر ژوب منتقل کیا گیا، جبکہ جاں بحق افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ بس مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھی اور کئی مسافر ملبے میں بری طرح پھنس گئے تھے، جنہیں نکالنے کے لیے امدادی ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی شیرانی، ژوب اور خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے ریسکیو ٹیمیں، ایمبولینسیں اور طبی عملہ موقع پر پہنچ گیا، جبکہ ژوب کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
بس کمپنی کے مطابق گاڑی کوئٹہ سے 36 مسافروں کے ساتھ روانہ ہوئی تھی، تاہم راستے میں ایک دوسری خراب بس کے مسافروں کو بھی اسی گاڑی میں منتقل کر دیا گیا، جس کے باعث بس میں سوار افراد کی تعداد بڑھ گئی اور جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔
حادثے کی وجہ سے متعلق مختلف دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔ ایک زخمی مسافر نے الزام لگایا کہ بس ڈرائیور نے مبینہ طور پر مسافروں سے تلخ کلامی کے بعد غصے میں آ کر بس کھائی میں گرائی، تاہم حکام نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔
ذرائع کے مطابق حادثے سے قبل سکیورٹی چیک پوسٹ پر بس سے مبینہ طور پر اضافی ایرانی ڈیزل برآمد ہونے پر گاڑی کو کچھ دیر روکا گیا تھا، جس کے بعد ممکنہ طور پر ڈرائیور نے رفتار تیز کر دی۔ تاہم یہ تمام پہلو تحقیقات کا حصہ ہیں اور کسی بھی وجہ کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔
سیکریٹری ٹرانسپورٹ بلوچستان محمد حیات کاکڑ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرائیور کے مبینہ کردار، بس میں ایرانی ڈیزل کی موجودگی اور حادثے کے تمام اسباب کا مکمل جائزہ لیا جائے گا، جبکہ غفلت ثابت ہونے پر بس کمپنی اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
پولیس کے مطابق حادثے میں بس ڈرائیور بھی جاں بحق ہو گیا، جس کی شناخت لورالائی کے رہائشی مراد عرف بابو استاد کے نام سے ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ حادثہ کوہِ سلیمان کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے میں پیش آیا، جہاں خطرناک موڑ، سنگل سڑکیں اور تیز رفتاری ماضی میں بھی متعدد جان لیوا حادثات کا سبب بن چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بلوچستان میں خستہ حال شاہراہیں، ٹریفک قوانین پر کمزور عمل درآمد اور دشوار گزار راستے حادثات کی بڑی وجوہات ہیں۔