وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ کاہنہ جیسے افسوسناک واقعات انہیں شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیتے ہیں اور ایسے سانحات کے بعد انہیں رات بھر نیند نہیں آتی۔
لاہور میں پیغامِ امن کمیٹی کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ کاہنہ کے المناک حادثے میں 14 معصوم بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں، جو ہر دردِ دل رکھنے والے انسان کے لیے ناقابلِ برداشت سانحہ ہے۔
انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو گھر سے باہر بھیجنے سے پہلے اس بات کا مکمل اطمینان کر لیا کریں کہ وہ محفوظ ماحول میں جا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ جب بھی کوئی شہری کسی حادثے یا غفلت کے باعث جان گنواتا ہے تو وہ خود کو اس کا ذمہ دار سمجھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص کھلے گٹر میں گر کر جان سے جاتا ہے تو یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے، اگرچہ انتظامیہ گٹروں کے ڈھکن لگاتی ہے لیکن بعض عناصر انہیں چوری کر لیتے ہیں، جس سے نئے خطرات جنم لیتے ہیں۔
مریم نواز نے سرگودھا میں کمسن بچی کے قتل کے واقعے کو بھی انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک معصوم بچی صرف دس روپے کی چیز خریدنے گھر سے نکلی، مگر اسے بے دردی سے قتل کر دیا گیا تاکہ اس کی شناخت نہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے، تاہم صرف ریاست سماجی برائیوں کا خاتمہ نہیں کر سکتی۔ والدین کو بھی اپنے بچوں، خصوصاً بیٹوں کی بہتر تربیت پر توجہ دینا ہوگی تاکہ معاشرے میں جرائم اور تشدد کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سماجی مسائل سے نمٹنے کے لیے حکومت اور عوام دونوں کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کے بقول پنجاب میں امن و امان کے قیام کے لیے صوبائی کابینہ، پولیس اور ضلعی انتظامیہ بھرپور انداز میں کام کر رہی ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر مریم نواز نے “معرکۂ حق” کو پاکستان کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کامیابی سے دنیا میں پاکستان کا وقار بلند ہوا۔ انہوں نے اس کا کریڈٹ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو دیا۔